امریکہ اور قطر ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی پر غور کر رہے ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت یہ رقم انسانی ہمدردی اور غیر پابندی شدہ اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کی جا سکے گی، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
-
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی پر غور کیا جا رہا ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل () کی رپورٹ کے مطابق، اگر واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات کا میاب رہتے ہیں اور ایک وسیع تر امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کو قطر میں موجود اپنے تقریباً 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں تک محدود رسائی دی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ فنڈز صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سامان، ادویات، خوراک اور دیگر ایسی اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے جو امریکی پابندیوں کے دائرے سے باہر ہیں۔ ان اشیاء کی ایک بڑی تعداد امریکہ سے درآمد کی جا سکے گی۔
یہ رقم دراصل جنوبی کوریا کے بینکوں میں موجود ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل شدہ آمدنی تھی، جسے 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے بعد قطر کے مخصوص اکاؤنٹس میں منتقل کیا گیا تھا۔
تاہم 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے اور اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث ان فنڈز تک ایران کی رسائی مؤثر طور پر معطل کر دی گئی تھی۔

