فیفا ورلڈ کپ 2026 میں مراکش نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گروپ سی کے ایک اہم مقابلے میں اسکاٹ لینڈ کو 0-1 سے شکست دے دی۔ بوسٹن اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں مراکش کے مڈفیلڈر اسماعیل صیباری نے میچ کے آغاز کے صرف 71 سیکنڈ بعد گول کر کے نہ صرف اپنی ٹیم کو برتری دلائی بلکہ ٹورنامنٹ کا اب تک کا تیز ترین گول کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔مراکش نے آغاز ہی سے جارحانہ انداز اپنایا اور اسکاٹ لینڈ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ میچ کے ابتدائی لمحات میں اسکاٹش کپتان گرانٹ ہینلی دفاعی پوزیشن میں غلطی کر بیٹھے، جس کا بھرپور فائدہ مراکش نے اٹھایا۔ ابراہیم دیاز کے شاندار پاس پر اسماعیل صیباری تیزی سے آگے بڑھے اور گیند کو جال میں پہنچا دیا۔یہ اسماعیل صیباری کا ٹورنامنٹ میں دوسرا گول تھا۔ اس سے قبل وہ برازیل کے خلاف 1-1 سے برابر رہنے والے میچ میں بھی گول کر چکے ہیں۔ اس کارنامے کے ساتھ وہ اپنے ابتدائی دو ورلڈ کپ میچوں میں گول کرنے والے صرف دوسرے افریقی فٹبالر بن گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ اعزاز مصر کے اسٹار محمد صلاح کے نام تھا۔پہلے گول کے بعد بھی مراکش کے حملے جاری رہے۔ عزالدین اوناحی اور اشرف حکیمی نے کئی خطرناک مواقع پیدا کیے، تاہم اسکاٹ لینڈ کے گول کیپر اینگس گن نے عمدہ دفاع کرتے ہوئے مزید گول ہونے سے بچا لیا۔اسکاٹ لینڈ پہلے ہاف میں شدید دباؤ کا شکار رہا اور اس کا پہلا باضابطہ شاٹ انجری ٹائم میں آیا، جسے مراکش کے گول کیپر نے آسانی سے روک لیا۔ دوسرے ہاف میں بھی مراکش کی برتری برقرار رہی اور مضبوط دفاع کے باعث اسکاٹ لینڈ کو برابر کرنے کا کوئی واضح موقع نہ مل سکا۔گزشتہ ورلڈ کپ میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے دنیا کو حیران کرنے والی مراکش کی ٹیم اس مرتبہ بھی زبردست فارم میں دکھائی دے رہی ہے۔ دو میچوں میں چار پوائنٹس حاصل کرنے کے بعد مراکش گروپ سی میں سرفہرست پہنچ گیا ہے۔ اب اس کا اگلا مقابلہ ہیٹی سے ہوگا۔دوسری جانب اسکاٹ لینڈ کے تین پوائنٹس ہیں۔ ٹیم نے اپنے پہلے میچ میں ہیٹی کو 0-1 سے شکست دے کر 36 برس بعد ورلڈ کپ میں فتح حاصل کی تھی، لیکن مراکش کے خلاف وہ اپنی کامیابی دہرانے میں ناکام رہی۔ اب اسے گروپ مرحلے کے آخری میچ میں پانچ بار کی عالمی چیمپئن برازیل کا سامنا کرنا ہوگا۔
معاشی بحران نے بدل دی زندگی
اسماعیل صیباری کی کامیابی کی کہانی بھی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں۔ 2001 میں اسپین میں پیدا ہونے والے صیباری کے والدین شمالی مراکش سے تعلق رکھتے تھے اور روزگار کی تلاش میں اسپین منتقل ہوئے تھے۔اسپین میں تقریباً 18 برس گزارنے کے بعد 2008 کے عالمی معاشی بحران نے ان کے خاندان کو شدید متاثر کیا۔ معاشی مشکلات کے باعث انہیں اسپین چھوڑ کربیلجیئم منتقل ہونا پڑا۔ یہی وہ ملک تھا جہاں اسماعیل صیباری کے فٹبال کیریئر نے حقیقی معنوں میں ترقی کرنا شروع کی۔بعد ازاں وہ اکیلے نیدرلینڈز چلے گئے، جہاں انہوں نے اپنی فٹبال صلاحیتوں کو مزید نکھارا۔ تین مختلف ممالک، تین زبانیں اورتین الگ فٹبال ثقافتوں کا تجربہ آج اسماعیل صیباری کو دنیا کے ابھرتے ہوئے خطرناک مڈفیلڈرزمیں شمارکراتا ہے۔

