صوابی ( حق نواز خان)
پاکستان ٹوبیکو کمپنی نے ضلع صوابی کے مقامی میڈیا نمائندوں کے ساتھ ایک بریفنگ سیشن منعقد کیا جس میں تمباکو کاشتکاروں پر ٹیکس سے متعلق پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی وضاحت کی گئی۔تمباکو پیدا کرنے والے مختلف علاقوں میں کسان غیر رجسٹرڈ اور قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنے والی مقامی کمپنیوں کے استحصال کا شکار ہیں۔ یہ کمپنیاں اپنی اعلان کردہ خریداری کوٹہ پورا نہیں کرتیں اور جان بوجھ کر خریداری میں تاخیر کرتی ہیں، جس کے باعث کسان بعد میں مجبوری کے تحت کم قیمت پر اپنی فصل فروخت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔صورتحال مزید سنگین اس وقت ہو جاتی ہے جب بعض مقامی خریدار گزشتہ سیزن میں خریدی گئی تمباکو کی ادائیگی بھی کسانوں کو نہیں کرتے۔ اس سے کسان اپنی بنیادی آمدنی سے محروم ہو جاتے ہیں اور ہزاروں خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں۔کاشتکاروں میں گردش کرنے والی غلط معلومات کے جواب میں پی ٹی سی نے واضح کیا کہ فی کلوگرام 390 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) حکومت کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس ہے۔ قوانین کی پابند کمپنی ہونے کے ناطے پی ٹی سی اس ڈیوٹی کی ادائیگی تمام متعلقہ قوانین اور ضوابط کے مطابق کرتی ہے۔ کمپنی نے زور دیا کہ یہ ڈیوٹی صرف مینوفیکچرنگ کمپنیوں پر لاگو ہوتی ہے اور اس کا کسانوں کی آمدنی یا انہیں ادا کی جانے والی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی یہ کسان پر کوئی مالی ذمہ داری عائد کرتی ہے۔مزید بتایا گیا کہ یہ دعویٰ کہ ایڈوانس فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وجہ سے مینوفیکچررز تمباکو خریدنے کے قابل نہیں رہے، گمراہ کن ہے۔ کمپنی کے مطابق کم ٹیکس والے درجے میں، جہاں مجموعی ٹیکس تقریباً 5,050 روپے فی کلوگرام بنتا ہے، وہاں 390 روپے فی کلوگرام ایڈوانس فیڈ کل ٹیکس بوجھ کا 10 فیصد سے بھی کم ہے اور مالی سال کے اختتام پر مکمل طور پر ایڈجسٹ ہو جاتا ہے۔
پی ٹی سی کے مطابق بہت سی غیر رجسٹرڈ یا قواعد کی پابندی نہ کرنے والی کمپنیوں کے لیے اصل مسئلہ ایکسائز ڈیوٹی نہیں بلکہ وہ دستاویزی تقاضے اور ٹیکس کی پابندیاں ہیں جو ڈاکومنٹڈ معیشت میں کام کرنے کے ساتھ منسلک ہیں۔

