ہنگورجہ (رپورٹ)
ہنگورجہ شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ڈکیتیوں اور چوری کی وارداتوں کے خلاف میمن برادری سمیت مختلف سیاسی، سماجی اور تجارتی تنظیموں کی جانب سے شٹر بند ہڑتال کی گئی۔ احتجاج میں سینکڑوں شہریوں، خواتین اور معصوم بچوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔احتجاجی ریلی کونسلر ضمیر حسین میمن، زنوار عبدالشکور، عادل میمن اور کاشف علی شیخ کی قیادت میں قومی شاہراہ سے نکالی گئی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور بدامنی کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے شہر کے مختلف راستوں سے گزر کر ہنگورجہ تھانے کے سامنے پہنچے، جہاں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دھرنا دیا گیا۔اس موقع پر وکلاء، سیاسی و سماجی رہنماؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، تاجروں اور شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما رسول بخش بھٹو، کونسلر عزیز میمن، سعید میمن اور دیگر مقررین نے کہا کہ ہنگورجہ شہر میں امن و امان کی صورتحال روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث شہری شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز سرکاری اسپتال کے قریب میمن محلہ کی ایک گلی میں مسلح ڈاکوؤں نے خواتین اور معصوم بچوں کو یرغمال بنا کر اسلحے کے زور پر لوٹ مار کی، جس سے نہ صرف شہریوں کی عزتِ نفس مجروح ہوئی بلکہ پورے شہر میں خوف کی فضا قائم ہو گئی ہے۔مقررین کا کہنا تھا کہ ہنگورجہ شہر اور اس کے گرد و نواح میں شاید ہی کوئی دن یا رات ایسی گزرتی ہو جس میں چوری، ڈکیتی یا جرائم کی کوئی واردات پیش نہ آتی ہو۔ شہریوں نے متعدد بار انتظامیہ اور پولیس کو بدامنی کے حوالے سے آگاہ کیا، تاہم مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث جرائم پیشہ عناصر کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شہری اب اپنی جان، مال اور عزت کے تحفظ کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور حکومت و پولیس حکام سے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتے ہیں۔احتجاجی مظاہرین نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی خیرپور سے مطالبہ کیا کہ حالیہ ڈکیتی میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے لوٹا گیا مال واپس دلایا جائے اور شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پانے کے لیے ٹھوس اور مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور ملزمان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں نہ لائی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور آئندہ مرحلے میں ایس ایس پی خیرپور کے دفتر کے سامنے بڑا دھرنا دیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔

