لندن :اینڈی برنہم باضابطہ طور پر برطانیہ کی لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب ہو گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ سابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جگہ لے رہے ہیں اور توقع ہے کہ پیر کے روز بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کے بعد برطانیہ کے نئے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالیں گے۔ جبکہ اُسی روز کیئر اسٹارمر بادشاہ کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔
برنہم بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ انہیں لیبر پارٹی کے پارلیمانی اراکین کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی، جن میں 403 میں سے 379 ارکانِ پارلیمنٹ کی توثیق شامل تھی، جبکہ بڑی ٹریڈ یونینوں نے بھی ان کی حمایت کی۔
برنہم نے ملک میں ایک نئی سیاسی ثقافت متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنے اور ‘پوائنٹ سکورنگ’ (Point-scoring) کی روایتی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے مسائل کے حل پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا ہے۔
برنہم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک اس وقت ایک "نئی سیاست” کا متقاضی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ سیاستدانوں کی جانب سے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے کا عمل عوام کے لیے انتہائی اشتعال انگیز ہے، جس کے باعث عوام کا سیاسی عمل سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ملک میں معیارِ زندگی گر رہا ہو، تو سیاستدانوں کا آپس میں الجھنا عوام کو دور کر دیتا ہے۔
برنہم نے زور دیا کہ یہ ملک کے پاس بدلنے کا "آخری موقع” ہے۔ انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ جب انہوں نے ‘میکر فیلڈ’ (Makerfield) میں اپنی خامیوں کو تسلیم کیا اور لوگوں کو بتایا کہ وہ مسائل کو کیسے حل کریں گے، تو عوام نے دوبارہ سننا شروع کیا اور ایک اور موقع دیا۔ انہوں نے اپنے ساتھی سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے یہ بتائیں کہ وہ ملک کے لیے کیا عملی اقدامات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سیاست کو اب ایک "مسائل کے حل” والے نقطہ نظر (Problem-solving approach) کو اپنانا ہوگا۔ برنہم نے خاص طور پر سماجی دیکھ بھال (Social care) جیسے بڑے اور نظر انداز شدہ شعبوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے پاس ان بڑے مسائل کو ٹھیک کرنے کی ہمت اور منصوبے ہونے چاہئیں، جنہیں وہ عوام کے سامنے پورے یقین کے ساتھ پیش کر سکیں۔
"پوائنٹ سکورنگ نہیں، اب مسائل کا حل چاہیے” اینڈی برنہم لیبر پارٹی کے نئے سربراہ منتخب،

