ایویان-لے-بینز (فرانس): جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے پہلے روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو یقینی بنانے کے لیے فرانس اور برطانیہ کا ایک مشترکہ مشن تشکیل دیا گیا ہے، جو بہت جلد اپنی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر میکرون نے بتایا کہ فرانس کا فلیگ شپ طیارہ بردار بحری جہاز ‘شارل ڈی گال’ اس علاقے میں پہنچنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ مشن "دو سے تین دن کے مختصر وقت” میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال سکتا ہے۔
فرانسیسی صدر نے زور دیا کہ ان کا ہر اقدام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ ہرمز کا راستہ پرامن اور پائیدار طریقے سے دوبارہ کھل سکے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ یہ فوجی تعیناتی امریکا کی رضامندی اور ایرانی حکام کے ساتھ متوازی رابطوں کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کے تصادم سے بچا جا سکے۔
قبل ازیں فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں نے کہا ہے کہ ’ایران کے افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو غیر مؤثر بنایا جانا چاہیے اور انھیں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں رکھا جانا چاہیے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اعلان کے بعد میکرون نے کہا کہ ’ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ باقی ماندہ افزودہ یورینیئم کے ذخائر کو مناسب طریقے سے غیر مؤثر بنایا جائے۔‘
آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے فرانس اور برطانیہ کا مشترکہ مشن؛ صدر میکرون کا فوری تعیناتی کا اعلان

