دنیا: ٹیکنالوجی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور دنیا کے امیر ترین شخص، ایلون مسک، جلد ہی ایک ایسی مالیاتی بلندی پر پہنچ سکتے ہیں جس کا خواب بھی کسی نے نہیں دیکھا ہوگا۔ تازہ ترین رپورٹس اور مالیاتی پیشگوئیوں کے مطابق، مسک دنیا کے پہلے ‘ٹریلینر’ (ایک ٹریلین ڈالر کے مالک) بننے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
حیران کن اعداد و شمار
مالی حجم: ایک ٹریلین ڈالر کی رقم پاکستانی روپے میں تقریباً 278 ٹریلین روپے بنتی ہے، جو کسی بھی انسانی تصور سے بالاتر ہے۔
دولت کا ذریعہ: ایلون مسک کی دولت کا بڑا حصہ ان کی کمپنیوں ‘ٹیسلا’ (Tesla) اور ‘سپیس ایکس’ (SpaceX) کے حصص پر مشتمل ہے۔ صرف سپیس ایکس کا ممکنہ آئی پی او (IPO) ان کی دولت میں مزید 841 ارب ڈالر کا اضافہ کر سکتا ہے۔
مقابلہ کس سے؟ اگر یہ سنگِ میل عبور ہوا تو ایلون مسک کی ذاتی دولت جیف بیزوس، لیری ایلیسن اور گوگل کے بانیوں کی مجموعی دولت سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔
یہ دولت کتنی بڑی ہے؟
ایلون مسک کی متوقع دولت کا موازنہ اگر دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے کیا جائے تو یہ تائیوان، آئرلینڈ، سویڈن اور سنگاپور جیسی معیشتوں سے بھی بڑی ہوگی۔ یہ رقم ہیوسٹن شہر کی تمام جائیدادوں کی مجموعی مالیت اور دنیا بھر کی بڑی کھیلوں کی فرنچائزز کی کل قیمت سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔
یہ دولت براہِ راست نقد رقم نہیں بلکہ مارکیٹ میں کمپنیوں کے شیئرز کی قدر ہے، جو سٹاک مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اگر یہ پیشگوئی سچ ثابت ہوئی، تو ایلون مسک عالمی معیشت کی تاریخ میں ایک ایسا ریکارڈ قائم کریں گے جسے توڑنا آنے والی صدیوں تک ناممکن ہو سکتا ہے۔

