تحریرنویدبلوچ
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
۔ہم ایک دلچسپ زمانے سے گزرے ہیں… ایسا زمانہ جس میں قوالی گھنٹوں کی ہوتی تھی، اور لوگ دم سادھے بیٹھے رہتے تھے۔ایسا زمانہ جب غزل کے ہر شعر پر "واہ واہ” کی صدا گونجتی تھی۔
ایسا زمانہ جب موسیقی، شاعری اور فنونِ لطیفہ میں گہرائی ضرور تھی — مگر بصری معیار؟معاف کیجیے گا… نہ ہونے کے برابر تھا۔آج جب ہم سوشل میڈیا پر کسی عام سے ٹک ٹاکر کی ویڈیو دیکھتے ہیں،
تو دل میں ایک ہی خیال آتا ہے: یہ ویڈیو اگر 90 کی دہائی میں کسی فلم کا سین ہوتی تو اسے "ماسٹر شاٹ” قرار دیا جاتا۔اور اگر وہی روشنی، وہی رنگ، وہی زاویہ کسی پرانے کیمرہ مین سے کروایا جاتا —
تو جواب یہی آتا: "بھائی، اتنا ہی بجٹ تھا!” یا "کیمرہ یہی دستیاب تھا!”
مگر سچ یہ ہے کہ…
مسئلہ بجٹ کا نہیں، وژن کا تھا۔ہم نے کیمرہ مین ایسے پالے جو ہر فریم کو صرف “ریکارڈ” کرتے تھے، “تخلیق” نہیں۔ہم نے ڈائریکٹر ایسے پیدا کیے جنہیں لائٹنگ سے زیادہ لائوڈ ڈائیلاگ کی فکر تھی۔سین کو “زندہ” دکھانے کا فن نہیں آتا تھا، صرف “مکمل” کرنا آتا تھا۔مرد اداکار کے چہرے پر پسینہ ہو یا خاتون کے آنچل کی ہوا میں روانی —
کچھ بھی نیچرل نہیں ہوتا تھا، بس اوور ڈرامی ہوتا تھا۔نہ ایڈیٹنگ میں ریتم ہوتا، نہ فریم میں جمالیات۔
فوٹوگرافی کو فن نہیں، ہنر سمجھا جاتا — اور وہ بھی کم درجہ کا ہنر۔آج جب ایک لڑکا سستا سا فون لے کر 15 سیکنڈ کی ویڈیو بناتا ہے،
تو اس میں بھی ایسی “کمپوزیشن” ہوتی ہے جو پرانے فلمی سینز میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔تو سوال یہ ہے کہ پھر وہ پرانے کیمرہ مین، وہ خود ساختہ "ڈائریکٹرز” کیا تھے؟
فنکار؟
نہیں۔بس خوش نصیب… کہ ان کے سامنے کوئی چیلنج ہی نہ تھا۔انہوں نے جو دیا، وہی عوام نے قبول کر لیا — کیونکہ متبادل کچھ تھا ہی نہیں۔ٹیکنالوجی نے صرف معیار بہتر نہیں کیا،اس نے آئینہ دکھا دیا ہے —
کہ ہم کتنی دیر تک دھندلی تصویروں کو آرٹ سمجھتے رہے۔اور شاید اسی لیے آج کے دور کا نیا فلم ساز یا وی لاگر،
پرانے وقت کے "استادوں” کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ
اچھا ہونا کبھی بھی کافی نہیں ہوتا — اگر آپ کے وقت میں کوئی مقابلہ ہی نہ ہو۔
پرانے کیمرہ مین اور ڈائریکٹر خوش نصیب تھے کہ انہیں کبھی کسی نے پرکھا ہی نہیں۔
ورنہ جو کام آج کے ایک فالوور والا بچہ سیکھ چکا ہے،
اسے سیکھنے میں ان “ماہروں” نے پوری زندگی گزار دی — اور تب بھی آدھا ہی سیکھا۔
یہ ترقی کا سفر نہیں…
یہ بے نیازی کا خمیازہ ہے۔

