Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      اساتذہ کی وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ پالیسی تیار، گولڈن ہینڈ شیک ملے گا

      مصنوعی ذہانت کا انقلاب: کون سی یونیورسٹی ڈگریاں وقعت کھو بیٹھیں گی؟

      ایپل کا پاکستان میں بڑا اقدام:DARAZ پر بطور ’منظورشدہ ری سیلر‘ باضابطہ آغاز

      AIانقلاب کی دستک، اینویڈیا نے پی سی چپ متعارف کرادی

      اے آئی کا بلبلہ پھوٹنے لگا! لاکھوں ملازمین کو فارغ کرنے والی کمپنیاں اخراجات کے بوجھ سے پریشان

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

      خارگ جزیرے پر ممکنہ امریکی حملہ ، لیگو ویڈیو جاری

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    جب ویزا، ووٹ سے زیادہ اہم ہو جائے

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرڈاکٹرمحمددائود
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان کے نوجوان کبھی بڑی تعداد میں سیاسی جلسوں، مباحثوں اور انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ وہ سیاسی نظریات، جماعتوں اور ملک کے مستقبل کے بارے میں بحث کرنے کے لیے پُرجوش ہوتے تھے۔ انتخابات ایسے مواقع سمجھے جاتے تھے جو نہ صرف افراد کی زندگی بلکہ پورے ملک کی سمت تبدیل کر سکتے تھے۔ لیکن آج ایک خاموش مگر تشویشناک تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ اب نوجوانوں کی گفتگو کا مرکز سیاسی منشور یا حکومتی تبدیلی نہیں بلکہ آئی ایل ٹی ایس کے اسکور، بیرونِ ملک ملازمتوں کے مواقع، لائسنسنگ امتحانات اور ویزا کے حصول کے طریقے بن چکے ہیں۔
    ایک سوال جو چند دہائیاں پہلے ناقابلِ تصور تھا، آج سنجیدگی سے پوچھا جا رہا ہے: پاکستان کے نوجوان ووٹ سے زیادہ ویزا کو کیوں اہمیت دے رہے ہیں؟
    اس سوال کا جواب سیاست، حکمرانی، معاشی حالات اور مستقبل کے امکانات میں پوشیدہ ہے، لیکن تعلیم یافتہ نوجوانوں، خصوصاً ڈاکٹروں، انجینئروں، آئی ٹی ماہرین، محققین اور دیگر ہنر مند افراد کے لیے اس کا سب سے واضح جواب معاشی حقیقتوں میں نظر آتا ہے۔ شاید کوئی شعبہ اس رجحان کی اتنی واضح عکاسی نہیں کرتا جتنا طب کا شعبہ۔ پاکستان ڈاکٹروں کی تعلیم و تربیت پر بھاری سرمایہ کاری کرتا ہے۔ خاندان اپنے بچوں کو ڈاکٹر بنانے کے لیے لاکھوں بلکہ بعض اوقات کروڑوں روپے خرچ کرتے ہیں، جبکہ طلبہ پانچ سے چھ سال تک مسلسل محنت، امتحانات، راتوں کی جاگ اور سخت طبی تربیت کے مراحل سے گزرتے ہیں۔ ڈاکٹر بننا ملک کے مشکل ترین تعلیمی سفر میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، لیکن جب یہی نوجوان ڈاکٹر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ ان کی محنت اور قربانیوں کے مقابلے میں مالی معاوضہ انتہائی محدود ہے۔
    درحقیقت معاشی عوامل ہی ڈاکٹروں کی بیرونِ ملک ہجرت کی سب سے بڑی وجہ بن چکے ہیں۔ چھ سالہ کٹھن تعلیم اور تربیت مکمل کرنے کے بعد ایک نوجوان ڈاکٹر کی ابتدائی تنخواہ عموماً ساٹھ ہزار روپے ماہانہ کے لگ بھگ ہوتی ہے، اگرچہ مختلف اداروں اور صوبوں میں اس میں کچھ فرق ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب یہی ڈاکٹر خلیجی ممالک میں دس سے پندرہ لاکھ روپے ماہانہ تک کما سکتا ہے، جبکہ امریکہ، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں پیشہ ورانہ ترقی اور آمدنی کے امکانات اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ ایسے میں یہ فرق محض تنخواہ کا نہیں بلکہ معیارِ زندگی، پیشہ ورانہ ترقی اور مستقبل کے امکانات کا فرق بن جاتا ہے۔ ایک نوجوان ڈاکٹر کے لیے یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا کہ وہ اپنی زندگی کے بہترین سال اور اپنے والدین کی جمع پونجی صرف کرنے کے بعد بھی محدود مواقع پر اکتفا کرے یا ایسی دنیا کا انتخاب کرے جہاں اس کی صلاحیتوں کی زیادہ قدر کی جاتی ہو۔
    یہ مسئلہ صرف آمدنی تک محدود نہیں۔ ڈاکٹر بہتر کام کے ماحول، پیشہ ورانہ احترام، منظم تربیتی نظام، تحقیق کے مواقع اور شفاف ترقی کے راستے بھی چاہتے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ معاشی محرکات اس فیصلے کا نقطۂ آغاز بنتے ہیں۔ جب ایک نوجوان ڈاکٹر یہ دیکھتا ہے کہ بیرونِ ملک ایک ماہ کی آمدنی پاکستان میں کئی ماہ کی تنخواہ کے برابر ہو سکتی ہے تو اس کے لیے ملک میں رکنے کا فیصلہ مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
    اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر نسبتاً کم توجہ دی جاتی ہے۔ بہت سے نوجوان ہجرت کو صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے اپنی زندگی کے حالات بدلنے کا ایک ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ جب لوگوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کا ووٹ قومی پالیسیوں، حکومتی ترجیحات یا ریاستی فیصلوں پر کوئی مؤثر اثر نہیں ڈال رہا، تو وہ اپنے مستقبل کے لیے متبادل راستے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اس کا وطن سے محبت یا بے وفائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ بقا، مواقع اور بہتر زندگی کی تلاش کا معاملہ بن جاتا ہے۔ دنیا بھر میں لوگ اس وقت ہجرت کا فیصلہ کرتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ کہیں اور انہیں زیادہ معاشی استحکام، بہتر روزگار، زیادہ تحفظ، انصاف اور ایک پُرامن ماحول میسر آ سکتا ہے۔ پاکستان بھی اس عالمی رجحان سے مختلف نہیں۔ مسلسل مہنگائی، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی غربت اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے لاکھوں خاندانوں کو شدید دباؤ میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں جو لوگ تعلیم، صلاحیت یا وسائل رکھتے ہیں، وہ اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے بیرونِ ملک مواقع تلاش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
    یہ رجحان صرف ڈاکٹروں تک محدود نہیں۔ انجینئرز، سافٹ ویئر ڈویلپرز، محققین، اساتذہ اور دیگر ہنر مند افراد بھی اسی راستے پر گامزن ہیں۔ پاکستان کے بہترین دماغ ملکی اداروں میں کیریئر بنانے کے بجائے بیرونِ ملک مواقع تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ آج بہت سے گھروں میں کسی نوجوان کا غیر ملکی ویزا حاصل کرنا ایک باوقار مقامی ملازمت ملنے سے بھی زیادہ خوشی کی بات سمجھا جاتا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی کامیابی کا خواب اب صرف اچھی ڈگری یا اچھی نوکری میں نہیں بلکہ بیرونِ ملک مستقل رہائش اور بہتر مستقبل میں دیکھنے لگے ہیں۔
    یہ صورتحال پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہونی چاہیے۔ کسی ملک کی اصل طاقت صرف اس کے جغرافیے، قدرتی وسائل یا فوجی قوت میں نہیں ہوتی بلکہ اس کے انسانی سرمائے میں ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنے بہترین افراد کو سنبھال کر رکھتی ہیں، وہی ترقی کرتی ہیں۔ لیکن جب ایک ملک اپنے تربیت یافتہ اور باصلاحیت افراد کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو جائے تو درحقیقت وہ اپنے مستقبل کو کمزور کر رہا ہوتا ہے۔
    یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں سے ایک کا حامل ہے۔ ماہرینِ معیشت اسے "ڈیموگرافک ڈویڈنڈ” قرار دیتے ہیں، یعنی ایسی نوجوان آبادی جو معاشی ترقی، اختراع اور قومی ترقی کا انجن بن سکتی ہے۔ لیکن یہ فائدہ اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب نوجوان اپنے مستقبل کو اپنے ہی ملک سے وابستہ سمجھیں۔ جب کامیابی کا مترادف ہجرت بن جائے تو یہی ڈیموگرافک ڈویڈنڈ آہستہ آہستہ "برین ڈرین” میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
    اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے۔ جب ڈاکٹر ملک چھوڑتے ہیں تو صحت کا نظام کمزور ہوتا ہے، مریضوں کو علاج کے لیے زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے اور ہسپتال تجربہ کار عملے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ جب انجینئرز چلے جاتے ہیں تو ترقیاتی منصوبوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے۔ جب محققین ہجرت کرتے ہیں تو اختراع اور تحقیق کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔ جب اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم ملک چھوڑتے ہیں تو یونیورسٹیاں ایسے ذہنوں سے محروم ہو جاتی ہیں جو اگلی نسل کی تربیت کر سکتے ہیں۔ اس طرح ملک صرف افرادی قوت نہیں بلکہ قیادت، تجربہ اور مستقبل کی صلاحیت بھی کھو دیتا ہے۔
    یہ حقیقت ایک بڑے قومی مکالمے کی متقاضی ہے۔ پاکستان میں سیاسی بحث کا محور عموماً اقتدار کی کشمکش، انتخابات اور وقتی سیاسی تنازعات ہوتے ہیں، لیکن نوجوان نسل ایک مختلف سوال پوچھ رہی ہے: ملک کا طویل المدتی منصوبہ کیا ہے؟ پاکستان مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے دور میں خود کو کس طرح مسابقتی بنائے گا؟ کیا ہمارے نوجوانوں کو مستقبل کے چیلنجز کے مطابق مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں؟
    دنیا بھر میں ممالک باصلاحیت افراد کو اپنی جانب راغب کرنے کے لیے سخت مقابلہ کر رہے ہیں۔ خلیجی ریاستیں صحت، تعلیم، مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔ کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک ہنر مند افراد کو متوجہ کرنے کے لیے خصوصی پالیسیاں مرتب کر رہے ہیں۔ اس عالمی دوڑ میں پاکستان ایک عجیب صورتحال سے دوچار ہے: وہ اپنے بہترین دماغوں کی تربیت تو کر رہا ہے، لیکن ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اکثر دوسری معیشتیں اٹھا رہی ہیں۔
    اصل مسئلہ لوگوں کو بیرونِ ملک جانے سے روکنا نہیں۔ عالمگیریت کے دور میں نقل و حرکت ایک فطری عمل ہے۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کیے جائیں جن میں باصلاحیت پاکستانی اپنے مستقبل کو اپنے ہی ملک میں دیکھ سکیں۔ مناسب تنخواہیں، میرٹ پر مبنی ادارے، پیشہ ورانہ احترام، تحقیق کے مواقع، شفاف حکمرانی اور ترقی کے مساوی امکانات وہ عوامل ہیں جو کسی بھی نوجوان کو اپنے وطن میں رہنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
    پاکستان کے نوجوان کسی معجزے کا مطالبہ نہیں کر رہے۔ وہ صرف مواقع چاہتے ہیں۔ وہ ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں کامیابی کا معیار تعلقات نہیں بلکہ صلاحیت ہو، جہاں ترقی کا راستہ سفارش نہیں بلکہ محنت ہو، اور جہاں مستقبل کا تعین قابلیت کرے نہ کہ قسمت۔ بیشتر نوجوان اپنا وطن چھوڑنے کا خواب نہیں دیکھتے؛ وہ اپنے وطن میں بہتر زندگی کا خواب دیکھتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی تعداد میں نوجوانوں کو لگنے لگا ہے کہ ان خوابوں کی تعبیر پاکستان کے بجائے کسی اور ملک میں ممکن ہے۔
    شاید آج پاکستان کے سامنے سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ اگلا الیکشن کون جیتے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے ذہین ترین اور محنتی ترین نوجوانوں کو اپنے ہی ملک میں مستقبل دینے کے قابل ہے؟ ایک ملک معاشی بحرانوں، سیاسی اتار چڑھاؤ اور سفارتی مشکلات سے نکل سکتا ہے، لیکن اگر وہ اپنے بہترین دماغ مسلسل کھوتا رہے تو اس کی بحالی کا سفر کہیں زیادہ دشوار ہو جاتا ہے۔
    اگر پاکستان کے نوجوانوں کی نظر میں ویزا واقعی ووٹ سے زیادہ قیمتی بنتا جا رہا ہے تو یہ محض ہجرت کا مسئلہ نہیں، بلکہ امید، اعتماد اور مواقع پر ایک خاموش ریفرنڈم ہے۔ اور کوئی بھی قوم ان تینوں کو کھونے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

    Related Posts

    مضبوط آئی جی یا محدود اختیارات؟ پنجاب پولیس کے حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی

    ”بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران“ ملک محمد سلمان کا کالم

    اورہمارا یہ گندہ و بدبو دار طبقاتی نظام

    مقبول خبریں

    سکیورٹی فورسز کا قلات، خضدار اور مستونگ میں مشترکہ اور بڑے پیمانے پر آپریشن کامیابی سے جاری

    امریکہ میں اندھا دھند فائرنگ، مشتبہ حملہ آور سمیت 7 افراد ہلاک

    امریکی عدالت نے ٹرانس جینڈر فوجیوں پر پابندی لگانے والی ٹرمپ کی پالیسی کے خلاف حکم امتناعی برقرار رکھا

    یوکرین پر روسی حملوں میں نو افراد ہلاک، درجنوں زخمی

    اساتذہ کی وقت سے پہلے ریٹائرمنٹ پالیسی تیار، گولڈن ہینڈ شیک ملے گا

    بلاگ

    جب ویزا، ووٹ سے زیادہ اہم ہو جائے

    مضبوط آئی جی یا محدود اختیارات؟ پنجاب پولیس کے حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی

    ”بیوروکریسی کو داغدار کرتے ٹک ٹاکر افسران“ ملک محمد سلمان کا کالم

    اورہمارا یہ گندہ و بدبو دار طبقاتی نظام

    ابراہیمی معاہدے: مسلم دنیا بدل رہی ہے، پاکستان کہاں کھڑا ہے؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.