لاہور: مصنوعی ذہانت (AI) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی ترقی نے عالمی جاب مارکیٹ کے روایتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں کئی روایتی یونیورسٹی ڈگریوں کی معاشی اہمیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ آٹومیشن کے بڑھتے ہوئے رجحان نے خاص طور پر ‘وائٹ کالر’ ملازمتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بلاک (Block) اور اوریکل (Oracle) جیسی بڑی کمپنیوں میں حالیہ چھانٹیوں نے اس خدشے کو مزید تقویت دی ہے کہ اے آئی سسٹمز اب ان کاموں کو زیادہ مہارت اور تیزی سے سرانجام دے رہے ہیں جو کبھی جونیئر پروفیشنلز کا خاصہ ہوا کرتے تھے۔ پروپاکستانی کے مطابق ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ تعلیمی نصاب اور مارکیٹ کی طلب کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے کیونکہ ٹیکنالوجی تعلیمی اداروں کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔
کون سے شعبے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں؟
اے آئی ٹولز کی وجہ سے درج ذیل تعلیمی شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں:
بزنس ایڈمنسٹریشن: مارکیٹ تجزیہ اور سٹریٹجی سازی کے خودکار ہونے سے جنرل بزنس ڈگریوں کے بجائے اب ‘اسپیشلسٹ’ کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
مارکیٹنگ اور میڈیا: مواد کی تخلیق (Content Creation) اور رپورٹنگ میں اے آئی کے استعمال سے انٹری لیول کی ملازمتوں میں کمی آئی ہے۔
قانون اور پیرا لیگل: قانونی تحقیق اور دستاویزات کا جائزہ اب اے آئی سیکنڈوں میں کر لیتی ہے، جس سے جونیئر لیگل سپورٹ کا کام سکڑ رہا ہے۔
کمپیوٹر سائنس: بنیادی کوڈنگ اور ڈیبگنگ کا کام اے آئی کے پاس جانے سے اب سائبر سیکیورٹی اور اے آئی سسٹمز کے ماہرین کی طلب بڑھ گئی ہے۔
اکاؤنٹنگ اور گرافک ڈیزائن: اکاؤنٹنگ کے روایتی حساب کتاب اور بنیادی گرافک ڈیزائن اب خودکار ہو چکے ہیں۔
کیا یونیورسٹی ڈگری اب بھی اہم ہے؟
ماہرین کے مطابق کوئی بھی ڈگری مکمل طور پر غیر اہم نہیں ہوئی، تاہم اس کی نوعیت بدل گئی ہے۔ اب کامیابی کا انحصار صرف ڈگری پر نہیں بلکہ اس بات پر ہے کہ گریجویٹس اپنی تعلیمی قابلیت کے ساتھ قیادت، تخلیقی صلاحیت، انسانی جبلت اور جذباتی ذہانت جیسے انسانی اوصاف کو کیسے ضم کرتے ہیں۔
مستقبل کے ورک فورس کا فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ وہ اے آئی سسٹمز کو اپنے کام کا حصہ کیسے بناتے ہیں۔ تعلیمی اداروں کو اب روایتی نصاب سے نکل کر ایسے مہارتوں پر توجہ دینی ہوگی جو آٹومیشن کی زد میں نہ آ سکیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اب ‘مطالعہ’ سے زیادہ ‘مطابقت’ (Adaptability) اہم ہے، اور وہی گریجویٹس مارکیٹ میں برقرار رہیں گے جو بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ساتھ قدم ملا کر چلنا سیکھ چکے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا انقلاب: کون سی یونیورسٹی ڈگریاں وقعت کھو بیٹھیں گی؟

