Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اور اف ہمارے ملک میں یہ پروٹوکول

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریرحاجی فضل محمود انجم

    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

     

    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں مصر میں گھوڑ دوڑ کا ایک مقابلہ منعقد ہوا جس میں اس وقت کے مصر کے گورنر حضرت عمرو ابن العاص رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے محمد بن عمرو ابن العاص نے بھی حصہ لیا مگر مقابلے میں ایک مقامی قبطی عیسائی کا گھوڑا جیت گیا ۔اس پر محمد بن عمروابن العاص نے اس عیسائی کو یہ کہتے ہوئے کوڑے سے پیٹ ڈالا کہ:-
    "میں بڑے آدمی کی اولاد ہوں”
    بعض روایات کے مطابق
    "میں معزز والدین کی اولاد ہوں”
    مسلم ہسٹری میں یہیں سے وی آئی پی کلچر کے سر اٹھانے کا آغاز ہوا۔ اس واقعے کے بعد ہوا یہ کہ عیسائی شخص سیدھا مدینہ منورہ پہنچا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے شکایت کردی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لڑکے کو اسکے باپ گورنر عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سمیت مدینہ منورہ طلب کرلیا۔ جب یہ مدینہ منورہ پہنچے تو عیسائی کو کوڑا پکڑا کر فرمایا کہ؛-
    "اسے اسی طرح پیٹو جیسے تمہیں پیٹا تھا”
    گویا امیرالمومنین حضرت عمر نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ سب انسان حقوق میں برابر ہیں اور ان میں کسی چھوٹے اور بڑے کی تمیز نہیں ہے۔ہمارے ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی اسی قسم کے قانون کا نفاذ ہونا چاہیئے تھا لیکن بدقسمتی سے ہم اپنے اسلاف کے نقش قدم پر نہ چل سکے اور ایک ایسے طبقاتی نظام کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا جس میں حکمرانوں کو ایک اعلی! و ارفع مخلوق کا درجہ مل گیا۔یہیں سے ایک مشہور و معروف اصطلاح پروٹوکول ایجاد ہوئی۔ گویا موجودہ دور میں سیاسی برائیوں میں سے ایک برائی بھی یہی پروٹوکول ہے جو اب ایک نمائش کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔ہمارے ہاں جس سیاستدان کا جتنا بڑا پروٹوکول ہوگا اسے اتنا ہی بڑا سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔گویا ہمارے ہاں کسی سیاستدان کی اہمیت اس کے کردار، کارکردگی یا عوامی خدمت سے نہیں بلکہ اس کے آگے پیچھے چلنے والی اور سائرن بجاتی ہوئی گاڑیوں، گن مینوں اور لمبے لمبے قافلوں سے ناپی جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے پروٹوکول صرف طاقت کی علامت ہی نہیں بلکہ اب سیاست کی ایک بنیادی شرط بھی بن چکا ہے۔
    جمہوریت کی اصل روح تو سادگی، عوامی رابطہ اور جوابدہی کا اصول ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں اقتدار ملتے ہی اکثر رہنما اسی پروٹوکول کی آڑ میں خود کو عوام سے دور کر لیتے ہیں۔ پھر وہی عوام جو ان سیاستدانوں کو اقتدار میں لانے کا ذریعہ بنتی ہے اسی سے دوریاں اختیار کر لی جاتی ہیں اور انہیں شجر ممنوعہ سمجھ اپنے پاس نہیں آنے دیا جاتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی اپنے لیڈرز سے ملنے کیلئے ترستا رہتا ہے لیکن وہ ان سے مل نہیں سکتا۔ آجکل ہر شخص گھنٹوں ٹریفک میں پھنسا رہتا ہے محض اس لئے کہ کسی صاحب اقتدار و اختیار کا قافلہ گزر رہا ہے۔اسی پروٹوکول کی آڑ میں ایمبولینسز روک لی جاتی ہیں۔ طلبہ و طالبات کے امتحانات میں تاخیر ہو جاتی ہے کیونکہ طلبہ امتحانی سنٹرز میں دیر سے پہنچتے ہیں۔ مزدور اپنے کام کی جگہ پر نہیں پہنچ پاتے مگر پروٹوکول کی شاہانہ روایت پھر بھی برقرار رہتی ہے۔اس ضمن میں ایک واقعہ بھی مشہور ہے کہ پنجاب کے ایک دبنگ گورنر جناب طارق رحیم کے پروٹوکول کی آڑ میں میں اس وقت کے درویش وزیراعظم جناب معراج خالد کی گاڑیوں کو بھی روک لیا گیا تھا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہ بیماری اب صرف بڑے عہدوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ آجکل کے ادنی! اور چھوٹے درجے کے سیاسی نمائندے بھی خود کو کسی سلطنت کا بادشاہ سمجھنے لگے ہیں۔ سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال، درجنوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے، سڑکوں کی بندش اور غیر ضروری سیکورٹی دراصل اس احساسِ برتری کو ظاہر کرتی ہے جو عوامی نمائندگی کے حقیقی تصور کے منافی ہے۔
    اکثر دیکھا گیا ہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں سربراہانِ حکومت عام ٹریفک میں سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ پروٹوکول کی جھنجھٹ کو نہیں پالتے کیونکہ وہاں عوامی عہدہ ایک خدمت اور ذمہ داری سمجھا جاتا ہے برتری کا تاج نہیں۔ لیکن ہمارے ہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں جس کا جتنا بڑا پروٹوکول ہوگا وہ اتنا ہی بڑا اور اہم لیڈر ہوگا۔
    اس قسم کا رویہ صرف وسائل کا ضیاع نہیں بلکہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے بھی بڑھاتا ہے۔ جب ایک سیاستدان خود کو عام شہری سے الگ اور برتر محسوس کرنے لگے تو پھر عوامی مسائل اور اسکا حل اس کی ترجیحات میں شامل نہیں رہتے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی اعتماد کمزور اور نفرت و بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں پروٹوکول کلچر کو محدود کیا جائے۔ عوامی نمائندوں کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ عزت ان قافلوں، سائرن بجاتی گاڑیوں، سڑکوں کی بندش اور بیسیوں محافظوں سے نہیں ملتی بلکہ کردار کی بلندی،امانت و دیانت اور عوام کی خدمت سے ملتی ہے۔ قومیں سادگی اختیار کرنے والے رہنماؤں کو ہمیشہ عزت دیتی ہیں جبکہ مصنوعی رعب و دبدبہ وقتی تاثر تو پیدا کر سکتا ہے مگر تاریخ میں احترام حاصل نہیں کر سکتا۔وقت آ گیا ہے کہ سیاستدان عوام کے درمیان رہنا سیکھیں کیونکہ جمہوریت میں اصل طاقت پروٹوکول نہیں بلکہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔

    Related Posts

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.