تہران:تہران میونسپیلیٹی میں ثقافتی اور سماجی امور کے نائب سربراہ محمد امین توکل زادہ کا کہنا ہے کہ ایران کے سابق رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور آخری رسومات ’ذوالحج کے مہینے کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ادا کی جائیں گی۔
خیال رہے علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حملوں میں شہید ہوئے تھے۔
بی بی سی فارسی کے مطابق محمد امین توکل زادہ کا کہنا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات تہران میں کم از کم 24 گھنٹے جاری رہیں گی، جبکہ مشہد اور قُم میں بھی ان کا جنازہ پڑھا جائے گا۔
علی خامنہ ای کے جنازے کے حوالے سے ان کا کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم دارالحکومت میں ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی موجودگی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔‘
محمد امین توکل زادہ کے مطابق ’وصیت اور رشتہ داروں کی تجویز پر‘ علی خامنہ کی تدفین مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہو گی۔
تہران میونسپیلیٹی کے عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر پاکستان، افغانستان، انڈیا اور بنگلہ دیش سے بھی لوگوں کی آمد متوقع ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کااعلان، پاکستان، بھارت،افغانستان،بنگلہ دیش سے بھی اہم شخصیات کی شرکت متوقع

