اوسلو:ایران کی جلاوطن شہزادی نور پہلوی نے منگل کے روز اوسلو فریڈم فورم 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا خاندان ایران میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ ان کروڑوں ایرانیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں جنہیں گزشتہ 47 برسوں سے بنیادی آزادیوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ "مقصد اقتدار نہیں، عوام کا مستقبل ہے”اوسلو میں منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادی نور پہلوی نے اپنے والد شہزادہ رضا پہلوی اور اپنے خاندان کے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا:”میرے والد کا مقصد اور بطور خاندان ہمارا واحد نصب العین یہ ہے کہ ایران میں ایک ایسی اقتدار منتقلی کا عمل شروع ہو جس کے ذریعے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے، تاکہ ایرانی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔ ہم کسی تخت یا تاج کے حصول کے لیے نہیں، بلکہ ان لوگوں کی آزادی کے لیے لڑ رہے ہیں جنہیں چار دہائیوں سے اس سے دور رکھا گیا ہے۔” نور پہلوی نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایران کے حوالے سے غیر جانبدارانہ رویہ ترک کرے۔ انہوں نے فورم کے شرکاء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ، "سیاست میں کوئی ‘غیر جانبدار مصافحہ’ نہیں ہوتا۔ آپ یا تو ان 9 کروڑ 20 لاکھ ایرانیوں کے ساتھ کھڑے ہیں جو آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، یا پھر آپ ان لوگوں کے خون آلود ہاتھوں سے ہاتھ ملا رہے ہیں جو انہیں قتل کر رہے ہیں۔”
شہزادی نور پہلوی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور ایران کی اندرونی سیاسی صورتحال، معاشی بحران اور امریکا کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں کے حوالے سے عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ شہزادہ رضا پہلوی کا خاندان طویل عرصے سے ایران میں جمہوری نظام کے قیام اور ایک عبوری حکومت کے ذریعے نئے آئین کی تیاری پر زور دیتا آیا ہے تاکہ ملک کو موجودہ سیاسی جمود سے نکالا جا سکے۔

