تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
پنجاب پولیس میں جعلی پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ (PER) کے استعمال اور سرکاری ریکارڈ میں مبینہ جعلسازی کے سنگین الزامات ثابت ہونے پر ایک ڈی ایس پی کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب عبدالکریم کے جاری کردہ تفصیلی حکم نامے کے مطابق میاں ابصار احمد، جو ماضی میں ایس ڈی پی او پسرور سیالکوٹ کے عہدے پر تعینات رہے اور بعد ازاں مختلف اہم سیکیورٹی ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے، کے خلاف پنجاب سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 1999 کے تحت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
دستاویزات کے مطابق سال 2013 کی پرفارمنس ایویلیوایشن رپورٹ کی جانچ پڑتال کے دوران انکشاف ہوا کہ اس وقت کے آر پی او گوجرانوالہ کے مبینہ دستخط اور ابتدائی حروف مشکوک اور غیر مصدقہ ہیں۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر تحقیقات انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی برانچ پنجاب کے سپرد کی گئیں جہاں متعلقہ افسران، دفتری عملے اور ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
تحقیقاتی کارروائی کے دوران سابق آر پی او گوجرانوالہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی کہ مذکورہ PER پر موجود کاؤنٹر سگنیچر ان کے نہیں تھے۔ مزید برآں آر پی او آفس کے متعلقہ اہلکاروں نے بھی اپنے بیانات میں مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ افسر نے ذاتی طور پر دفتر آکر اپنی PER کو آگے بھجوانے کی درخواست کی تھی۔ انکوائری رپورٹ میں کہا گیا کہ افسر اپنے مؤقف کے حق میں کوئی قابلِ قبول ثبوت یا متعلقہ دستاویزات پیش نہ کر سکے جبکہ دستیاب شواہد، بیانات اور سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کاؤنٹر سگنیچر کی جعلسازی کے ذریعے سروس معاملات میں غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ انکوائری افسر نے اس عمل کو نہ صرف سنگین محکمانہ بدعنوانی بلکہ فوجداری نوعیت کا جرم قرار دیتے ہوئے تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی کی بھی سفارش کی۔
بعد ازاں میاں ابصار نے لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست کے تناظر میں محکمہ پولیس نے قانون کے مطابق ازسرنو انکوائری کرائی۔ دوسری انکوائری میں بھی سابق نتائج برقرار رہے اور افسر کے طرز عمل کو سنگین بددیانتی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور محکمہ پولیس کے نظم و ضبط، دیانت داری اور عوامی اعتماد کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا گیا۔
جس کے لیے ملازمت سے برطرفی کی بڑی سزا دی جانی چاہیے۔
آئی جی پنجاب نے آردل روم میں افسر کا مؤقف سننے، انکوائری رپورٹس اور دستیاب ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد الزامات کو ثابت شدہ قرار دیتے ہوئے میان ابصار احمد، ڈی ایس پی، کو فوری طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔ یہ فیصلہ پنجاب پولیس میں احتساب اور ادارہ جاتی شفافیت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آئی جی پنجاب کا بڑا ایکشن، جعلسازی ثابت، پولیس افسر ملازمت سے فارغ، کیا مقدمہ بھی درج ہوگا؟


