سیالکوٹ (سلیم احمد اعوان شیخو) ضلع نارووال کی تحصیل شکر گڑھ کے تھانہ شاہ غریب کے پولیس ملازمین نے ایک شخص کو گھر سے گرفتار کرکے تھانہ لے جا کر تشدد کر جان سے مار دیا۔بتایا گیا ہے کہ تھانہ شاہ غریب کے وردی میں ملبوس اور مسلح چار پولیس ملازم موضع ودھو چک میں رات تقریبا ایک بجے ایک شخص محمد حسین کے گھر داخل ہو گئے اور محمد حسین کو گریبان سے پکڑ کر اس پر تشدد کرنا شروع کر دیا اور تشدد کرتے ہوئے تھانہ لے گئے جبکہ تھانہ میں بھی پولیس نے محمد حسین پر بہیمانہ تشدد کیا اور محمد حسین تشدد برداشت نہ کرتے ہوئے موت کی آغوش میں جا پہنچا۔اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر نارروال ملک نوید کا کہنا ہے کہ وہ معاملہ کی خود تحقیقات کریں گے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد دیکھیں گے کہ محمد حسین کی موت کیسے واقع ہوئی ہے اگر موت پولیس تشدد سے ثابت ہوئی تو تشدد میں ملوث کسی بھی ملازم کو معاف نہیں کیا جائے اور ان ملازموں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت سے برخاست کر دیا جائے جبکہ محمد حسین کے اہل خانہ کے مطابق محمد حسین 5 بچوں کا باپ تھا اور گھر کا واحد کفیل تھا۔اہل خانہ نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب عبدالکریم را اور ریجنل پولیس آفیسر گوجرانولہ ریجن غیاث گل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محمد حسین کے قاتل پولیس والوں کے خلاف کارروائی کریں ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ ملازمت سے فارغ کریں۔ایس ایچ او علی زمان کے مطابق محمد حسین ایک مقدمہ میں عدالتی اشتہاری تھا اور عدالت کے حکم کے مطابق اس کا گرفتار کیا تھا جبکہ پولیس نے اس پر کوئی تشدد نہ کیا تھا بلکہ وہ ہارٹ اٹیک کے باعث مرا ہے۔
ملازمین نے ایک شخص کو گھر سے گرفتار کرکے تھانہ لے جا کر تشدد کر جان سے مار دیا، ہارٹ اٹیک کے باعث مرا :ایس ایچ او

