اندور/دھار: ہندوستان میں انتہا پسند ہندو تنظیموں آر ایس ایس (RSS) اور حکمران جماعت بی جے پی (BJP) کی جانب سے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور عبادت گاہوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنانے کے سلسلے میں ایک اور بڑی اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ نے آج، جمعہ 15 مئی کو، ایک متنازعہ فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی کمال مولا مسجد کو ہندو مندر قرار دے دیا ہے۔
اس فیصلے نے ہندوستان بھر کی مسلم کمیونٹی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید بے چینی اور خوف کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ اسے بابری مسجد کے بعد مساجد کو مندروں میں تبدیل کرنے کی ہندوتوا مہم کا ایک اور تسلسل دیکھا جا رہا ہے۔
مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے 12 مئی کو حتمی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جسے آج سنایا گیا۔ یہ طویل مدتی تنازعہ مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع ایک تاریخی یادگار کے بارے میں ہے۔
مسلمان اس یادگار کو صدیوں پرانی کمال مولا مسجد مانتے ہیں اور یہاں باقاعدگی سے نماز ادا کرتے رہے ہیں۔
ہندو انتہا پسندوں کا دعویٰ: بی جے پی اور آر ایس ایس کی پشت پناہی رکھنے والی ہندو تنظیمیں اس جگہ کو ‘بھوج شالا’ کہتی ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ دیوی سرسوتی (واگ دیوی) کے لیے وقف ایک قدیم مندر ہے۔
ہندو بنیاد پرستوں کی جانب سے اس جگہ پر قبضے کے لیے طویل عرصے سے مہم چلائی جا رہی تھی، اور آج کے عدالتی فیصلے نے ان کے ایجنڈے کو قانونی جواز فراہم کر دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے پیش نظر، دھار اور خاص طور پر مسجد کمپلیکس کے آس پاس کے علاقوں میں پولیس نے حفاظتی انتظامات انتہائی سخت کر دیے ہیں۔ مسلم کمیونٹی میں اس فیصلے پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، تاہم پولیس کی بھاری نفری کی وجہ سے خاموشی چھائی ہوئی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اقلیتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش ہے کہ ہندوتوا کے غلبے والے ہندوستان میں اب ان کے مذہبی حقوق اور تاریخی آثار محفوظ نہیں ہیں۔
ناقدین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے، بی جے پی اور آر ایس ایس نے ‘پلیسز آف ورشپ ایکٹ’ (Places of Worship Act) کی دھجیاں اڑاتے ہوئے متعدد مساجد پر دعوے ٹھونک دیے ہیں۔ وارانسی کی گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد کے بعد کمال مولا مسجد کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندو انتہا پسند اب عدلیہ کو استعمال کر کے ہندوستان کو ‘ہندو راشٹرا’ بنانے کے اپنے ایجنڈے کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ہندوستان میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر اور تشدد کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ مسلم کمیونٹی کا عدلیہ پر اعتماد مزید متزلزل ہو رہا ہے، اور وہ خود کو اپنے ہی ملک میں بے بس محسوس کر رہے ہیں۔
ہندوستان میں مسلمانوں کی عبادت گاہیں نشانے پر؛ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے تاریخی کمال مولا مسجد کو مندر قرار دے دیا

