نواب شاہ (رپورٹ: نفیس آرائیں)
وائس چانسلر شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شہید بینظیرآباد، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر مدد علی شاہ کی خصوصی ہدایات پر “معرکۂ حق” اور “آپریشن بنیان مرصوص” کی سالگرہ کے سلسلے میں جامعہ کے مختلف شعبہ جات کی جانب سے شایانِ شان تقریبات اور مقابلہ جاتی سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔
اس سلسلے میں شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زیرِ اہتمام طلبہ کے درمیان آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ تخلیقی مواد کے مقابلے منعقد کیے گئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر ریحان شاہ اور ڈاکٹر معراج نبی بھٹی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جدت، تحقیق اور ڈیجیٹل خودمختاری پر مبنی ان مقابلوں کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو جدید اے آئی ٹولز کے مثبت اور تعمیری استعمال کی جانب راغب کرنا ہے تاکہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں، قومی جذبے اور حب الوطنی کو ٹیکنالوجی کے ذریعے مؤثر انداز میں اجاگر کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید تکنیکی مہارتوں کو قومی بیانیے، ڈیجیٹل ترقی اور نوجوان نسل کی بااختیاری کے لیے بروئے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوسری جانب جامعہ کے شعبہ سندھی کے طلبہ کی جانب سے وطن سے محبت، قربانی اور شہادت کے موضوعات پر مبنی ڈرامے، لوک گیت، بیت بازی اور تقریری مقابلے بھی منعقد کیے گئے، جنہیں شرکاء کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔
اس موقع پر شعبہ سندھی کے اساتذہ ڈاکٹر امیر علی شاہ، ڈاکٹر پھلو سندر مینگھواڑ، ڈاکٹر سکندر ساگر، ڈاکٹر خالد ساحلی کیریئی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حب الوطنی سے سرشار علمی و ادبی سرگرمیاں طلبہ کی فکری، اخلاقی اور شخصی تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوان نسل اپنی تاریخ، ثقافت اور قومی قربانیوں سے آگاہ ہوتی ہے تو ان میں قومی ذمہ داری، شعور اور حب الوطنی کے جذبات مزید مستحکم ہوتے ہیں۔
تقریبات کے فوکل پرسن ڈاکٹر الطاف خاصخیلی نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیے نوجوانوں کا باشعور، بااخلاق اور باہمت ہونا ناگزیر ہے، جبکہ اس نوعیت کی مثبت اور تعمیری سرگرمیاں نوجوان نسل کی کردار سازی میں اہم سنگِ میل ثابت ہوتی ہیں۔

