ٹانک( بیووچیف کفایت اللہ پراچہ سے)

ضلع ٹانک میں پولیس کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھنے لگے، شہر میں اسٹریٹ کرائم اور منشیات فروشی عروج پر پہنچ گئی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس لمبی تان کر سو گئی ہے جبکہ جرائم پیشہ عناصر کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے متعدد منشیات کے عادی افراد نے ٹانک کا رخ کر لیا ہے اور اب شہر کی گلیوں، کوچوں اور بازاروں میں نشے کے عادی افراد سرعام پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف امن و امان بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔نئے تعینات ہونے والے ڈی پی او عبدالصمد خان کے حوالے سے بھی شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چارج سنبھالنے کے بعد سے وہ اکثر دفتر سے غیر حاضر رہتے ہیں اور سرکاری اوقات کار میں ان سے ملاقات تقریبا ناممکن ہو چکی ہے۔ بعض حلقوں کا دعوی ہے کہ وہ سہ پہر تین بجے کے بعد دفتر پہنچتے ہیں جس سے سائلین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔شہر میں ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں بھی معمول بن چکی ہیں۔ سرِ شام مسلح ڈاکو اسلحے کے زور پر شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ گزشتہ شام کو نمازِ مغرب کے بعد ایک مسجد کے اندر گھس کر نمازی کو قیمتی موبائل فون اور تیس ہزار روپے نقدی سے محروم کر دیا گیا، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔عوامی و سماجی حلقوں نے خیبر پختونخوا پولیس کے اعلی حکام، بالخصوص ڈی آئی جی ڈیرہ رینج اور آئی جی خیبرپختونخوا سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نااہل اور غیر سنجیدہ اہلکاروں کو فوری طور پر تبدیل کر کے بہادر اور متحرک افسران تعینات کیے جائیں تاکہ ٹانک میں امن و امان بحال ہو سکے اور عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جا سکتا ہے۔
