اسلام آباد (محمدشبیرسے)ندیم راجپوت راہنما مسلم لیگ ن نے (بے نقاب نیوز )سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن قریب آتے ہی کچھ لوگوں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش میں دوسروں کی کردار کشی کی ہے ۔کمزور لوگوں کو اپنے سیاسی مقاصد کی ڈھال بنا کر جو لوگوں کردار کشی کررہے ہیں انکے لیے اتنا پیغام ہے وہ اپنی کمان سے آ خری تیر بھی چلا لیں ۔پھر ھم مفروضوں اور محض جذباتی باتوں کی بجاے تحریری ثبوتوں ۔دستاویزی اور وڈیوز شہادتوں کی بنیاد پر بات کریں گے ۔ہمیں پردے پیچھے تمام محرکات اور سرمایہ کاری ۔سہولت کاری کا مکمل پتہ چل چکا ہے ۔ بچیوں کے پولیس بیانات ۔مجسٹریٹ کے سامنے بیانات ۔بچوں کے مختلف وڈیوز کلپس حاصل کرلیے ہیں ۔لیکن ھم گٹھیا دشمن کے آخری وار کا بھی ابھی انتظار کر رہے ہیں۔وہ شوق پورا کرلے پھر ثبوتوں کے ساتھ بات کریں گے ۔رہا مسئلہ نورین عارف کی مہمانوازی ۔کفالت خاص عام کا تو یہ سیاست یا MLA کا مرہون منت نہیں ۔یہ خاندانی اوصاف ہیں ۔اور 1652 سے یہ خاندان لوگوں کی آ باد کاری ۔کفالت ۔زمینیں عطا کرنے کا بیڑا اٹھاے ھوے ہے ۔۔لوگ سیاست سے پہلے بھی اس خاندان سے نفع لیتے رہے ہیں اور ان کے ساہبان کے نیچے پلتے رہے ہیں ۔کوٹلہ سے تھانہ کچہری اور بالادست کے ظلم سے لوگوں کی پناہ گاہ رہے ہیں ۔ کء ۔بیوہ یتیم بے سہارہ اس خاندان کے سایہ شفقت کے نیچے جاے پناہ میں رہے ہیں ۔محض مخالف براے مخالفت اور تصویر کا ایک رخ دیکھ کر راے قاہم کرنا اخلاقی پستی ہے ۔نورین عارف کا قد کاٹھ ۔وضع داری ۔شرافت لوگوں کی زبان درازیوں سے کم نہیں ھوگی ۔نہ فرق پڑے گا ۔پس میرے عدو تیرا گٹھیا ترین اور مکروہ چہرہ بے نقاب ھورہا ہے ۔جو بچی میڈیا کے سامنے بیان بدل کر کسی مصلحت کے تحت بات کرہی تھی۔چند گھنٹے پہلے اسی کے اذادانہ اتھارٹیز کے سامنے بالکل مختلف بیان اور وڈیوز کلپ ایک نہیں کء موجود ہیں ۔ایک بیان مخالفت اور کء بیانات وڈیوز کلپس حمایت میں اگر ایک بچی کے ھوں تو پھر کیسے سچ اور جھوٹ کا تعین کیا جاے گا ؟؟؟اور کیا اس بنیاد پر کسی معزز خاتون کی کردار کشی کرنا جاہز عمل ہے ؟کیا نورین عارف صاحبہ کو خاتون ھونے کے ناطے وہی بنیادی حق حاصل نہیں جو زیتون بی بی کو ہے ؟ہر عورت یکساں بنیادی حقوق و تکریم کی مستحق ہوتی ہے ۔کیا اسلام میں مساوات کا یہی تصور ہے کہ ایک خاتون کو متمول ھونے کے ناطے گالیاں دی جاہیں اور دوسری عورت کو سفید پوش ھونے کے ناطے ھمیشہ ہی ولی اللہ قرار دیا جاے ؟ یہ اپنی ٹاہمنگ کے اعتبار سے ایک سیاسی وار ہے ۔خود پر ظلم ہونے اور سہنے کو میڈیا پر لانے کے لیے اس وقت کا انتخاب کیا جب محترمہ حلقے کے ٹکٹ کے لیے لاھور گئی ۔ محترمہ کے گھر چوری کا مقدمہ 25 دسمبر 2025 کو تھانہ صدر میں ھوا ہے ۔تو چھ ماہ تک اسی دن کا انتظار کیوں کیا گیا ؟ ابھی اہینہ دھندلا ہے ۔اہینہ کا شفاف حصہ ھماری طرف ہے جسے ھم دکھاہیں گے کچھ کی آ نکھیں شرم سے جھک جاہیں گی ۔
الیکشن قریب آتے ہی کچھ لوگوں نے اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش میں دوسروں کی کردار کشی کی ہے:ندیم راجپوت

