اسلام آباد: بحیرہ عرب میں انسانیت اور پیشہ ورانہ مہارت کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے پاکستان نیوی کے فریگیٹ ’PNS کشمیر‘ نے مشکل میں گھرے بھارتی تجارتی جہاز ’ایم وی گوتم‘ (MV Gautam) کے عملے کو ایک کامیاب ریسکیو آپریشن کے ذریعے بچا لیا ہے۔ اس واقعے نے جہاں پاک بحریہ کے وقار میں اضافہ کیا ہے، وہیں بھارتی میڈیا کی دوغلی پالیسی کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
پاک بحریہ کے مطابق، بھارتی جہاز ’ایم وی گوتم‘ نے سمندر کے درمیان انجن میں خرابی یا کسی ہنگامی صورتحال کے باعث SOS (ہنگامی مدد) کی کال دی تھی۔ قریب ہی موجود پاکستان نیوی کے جہاز ’کشمیر‘ نے فوری طور پر پکار کا جواب دیا اور تمام تر پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھارتی عملے کی جان بچائی اور انہیں ضروری امداد فراہم کی۔
اس واقعے پر معروف بھارتی نژاد پروفیسر اور عالمی امور کے تجزیہ کار اشوک سوین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر ایک سنسنی خیز ٹویٹ کیا ہے جو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔
اشوک سوین نے لکھا:
"پاکستان نیوی کے فریگیٹ ‘کشمیر’ نے بحیرہ عرب میں بھارتی جہاز ‘ایم وی گوتم’ کے پھنسے ہوئے عملے کو بچایا۔ لیکن بھارت میں کوئی بھی اس بات پر آگ بگولہ (Raging) نہیں ہو رہا کہ پاکستانی بحری جہاز کا نام ’کشمیر‘ کیوں رکھا گیا ہے!”
Pakistan Navy frigate Kashmir rescued stranded crew in Indian ship MV Gautam in the Arabian Sea after an SOS call. No one in India raging how a Pakistani naval ship is named ‘Kashmir’!
pic.twitter.com/0a9P0tFmSN— Ashok Swain (@ashoswai) May 5, 2026
اشوک سوین کا اشارہ بھارت کے اس انتہا پسند طبقے اور میڈیا کی طرف ہے جو عام طور پر پاکستان کی جانب سے ‘کشمیر’ کا نام استعمال کرنے پر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ ان کے تبصرے کا لبِ لباب یہ ہے کہ جب اسی ‘کشمیر’ نامی جہاز نے بھارتی شہریوں کی جانیں بچائیں، تو اب بھارت کا وہ ’حب الوطنی‘ کا جذبہ اور نام پر اعتراض کرنے والی سیاست کہاں چھپ گئی ہے؟
سوشل میڈیا پر ردِعمل
سوشل میڈیا صارفین اشوک سوین کے اس بیان کو بھارت کے اندرونی تعصب کے خلاف ایک بڑا چارج شیٹ قرار دے رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ سمندر کے بے رحم لہروں کے درمیان پاکستان نیوی نے ثابت کر دیا کہ ان کے لیے انسانی جان کی قیمت سیاست سے بالاتر ہے، جبکہ بھارتی میڈیا کی خاموشی اس کی منافقت کا ثبوت ہے۔

