اسلام آباد :انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق عدلیہ کی آزادی میں نمایاں زوال، 27ویں آئینی ترمیم نے عدالتی تقرریوں میں انتظامیہ کا اثر بڑھا دیا، عدالتی فیصلوں نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی راہ ہموار کی، پی ٹی آئی کو مخصوص نشستوں سے محروم کر کے جمہوری عمل کو مزید تنگ کر دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں گزشتہ سال آزادی اظہار، شہری آزادی ، عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق 2025 میں اختیار اور احتساب کا سوال کرنے والوں کو کچلنے کی مہم چلائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق پیکا ایکٹ میں ترامیم، غداری کے قوانین اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے صحافیوں، سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور وکیلوں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق دھمکیاں، جبری گمشدگیاں اور نقل و حرکت پر پابندیاں عام رہیں جس کی وجہ سے خودسنسرشپ کا ماحول پیدا ہوا اور عوامی گفتگو محدود ہو کر رہ گئی۔
رپورٹ کے مطابق وفاق اور بلوچستان میں انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 میں ترامیم کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کو بغیر الزام اور عدالتی نگرانی کے تین ماہ تک کسی بھی شخص کو حراست میں رکھنے کا اختیار دے دیا گیا جو بنیادی حقوق، مقررہ طریقہ کار اور من مانی گرفتاری سے تحفظ کو شدید متاثر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عدلیہ کی آزادی میں نمایاں زوال آیا۔
رپورٹ کے مطابق 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی تقرریوں میں انتظامیہ کا اثر بڑھا دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق عدالتی فیصلوں نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی راہ ہموار کی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کو 2024 کے ریزرویڈ سیٹس سے محروم کر کے جمہوری عمل کو مزید تنگ کیا۔ رپورٹ کے مطابق سیکورٹی چیلنجز نے بھی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بڑھاوا دیا۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں عسکریت پسندی اور کانٹر ٹیرر آپریشنز میں عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی بڑی تعداد جاں بحق ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزائیں جاری رہیں۔ رپورٹ کے مطابق خواتین، بچوں، مذہبی اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر افراد سمیت کمزور طبقات تشدد اور امتیاز کا شکار رہے۔
رپورٹ کے مطابق کان کنوں اور صفائی کارکنوں کی حفاظت میں کوئی خاص بہتری نہیں آئی۔رپورٹ میں مثبت پیش رفت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ نیشنل کمیشن فار اقلیتیں ایکٹ کا پاس ہونا مذہبی اقلیتوں کے لیے اہم قدم ہے۔ اسلام آباد اور بلوچستان میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹس منظور ہوئے۔ اعلی عدلیہ نے وراثت اور شادی کے معاملات میں خواتین کے حقوق کو مضبوط کرنے والے اہم فیصلے کیے۔ صوبائی سطح پر فلاحی اقدامات اور اصلاحات بھی جاری رہیں۔

