Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اوپیک کی سیاست، سعودی گرفت اور امارات کی بغاوت تیل کی عالمی جنگ کا نیا باب

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    عالمی توانائی کی سیاست ایک نئے اور غیر متوقع موڑ پر کھڑی ہے جہاں سعودی عرب کی دہائیوں پر محیط قیادت کو پہلی بار ایک سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) سے اچانک اخراج نہ صرف خلیجی اتحاد میں دراڑ کا مظہر ہے بلکہ عالمی تیل کی منڈی کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، جو اوپیک میں سخت اور مرکزی کنٹرول کے لیے مشہور ہیں، اس وقت اپنی قیادت کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ امارات، جو اوپیک کا ایک بڑا اور اہم رکن تھا، طویل عرصے سے اپنی پیداواری حد (quota) پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہا تھا اور اب اس نے مکمل علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
    یہ فیصلہ محض معاشی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں گہرے سیاسی اور اسٹریٹجک عوامل کارفرما ہیں۔ امارات کی خواہش ہے کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار کو اوپیک کی پابندیوں سے آزاد کر کے عالمی منڈی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک کی پالیسیاں ابوظہبی کے معاشی اہداف کے لیے رکاوٹ بن چکی تھیں، جبکہ سعودی عرب کے برعکس امارات کی معیشت تیل پر مکمل انحصار نہیں رکھتی، جس سے اس کی پالیسی زیادہ لچکدار ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران جنگ کے باعث اسٹریٹ آف ہرمز بند ہے اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اس بحران نے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا بلکہ اوپیک کے اندر اتحاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
    امارات کا اخراج درحقیقت سعودی عرب کے اس روایتی اثر و رسوخ کو چیلنج کرتا ہے جو وہ اوپیک کے ذریعے عالمی تیل کی قیمتوں پر قائم رکھتا آیا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب اتفاقِ رائے کے ذریعے فیصلے کرواتا تھا، مگر حالیہ برسوں میں اس کا انداز زیادہ یکطرفہ ہو گیا، جس نے دیگر ارکان خصوصاً امارات کو ناراض کیا۔ مزید برآں، امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ یمن، سوڈان اور سرمایہ کاری کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے مفادات مختلف رہے ہیں۔ یہ اختلافات اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور خلیجی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو امارات کا اوپیک چھوڑنا عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ چونکہ یہ ملک تیل کی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے مستقبل میں یہ آزادانہ پیداوار بڑھا کر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اوپیک کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرے گا اور ممکنہ طور پر ایک نئی “قیمتوں کی جنگ” کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ میری رائے میں یہ واقعہ صرف ایک تنظیمی اختلاف نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اوپیک، جو کبھی تیل کی عالمی سیاست کا محور تھا، اب اندرونی اختلافات اور جغرافیائی سیاست کے دباؤ میں اپنی گرفت کھوتا نظر آ رہا ہے۔ اگر امارات کی طرح دیگر ممالک بھی خودمختاری کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اوپیک کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کی “آہنی گرفت” اب پہلی بار حقیقی معنوں میں چیلنج ہو رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا ریاض اپنی قیادت برقرار رکھ پاتا ہے یا عالمی تیل کی سیاست ایک نئے، زیادہ منتشر اور غیر متوازن دور میں داخل ہو جاتی ہے

    Related Posts

    جلال پور پیر والا: موٹرسائیکل کو بچا تے ہوئے گاڑی  نہر میں جا گيری

    خرم حمید کی زیرِ صدارت اسسٹنٹ کمشنر آفس نورپور تھل میں ریونیو فیلڈ سٹاف کا اہم اجلاس

    ساس کا اپنی بہو اور اس کے یتیم بچوں پر  ساتھیوں مدد سے  تشدد

    مقبول خبریں

    ساس کا اپنی بہو اور اس کے یتیم بچوں پر  ساتھیوں مدد سے  تشدد

    ٹریفک حادثہ، راہگیر جاں بحق

    نئی آٹو پالیسی، مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر

    آئل ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، باپ جاں بحق، بیٹا شدید زخمی

    سونے کے بھاؤ میں کمی

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.