Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ’’ اڑتا ہوا وائٹ ہاؤس ’’ٹرمپ نے نئے ’’ایئر فورس ون‘‘ کی رونمائی کردی،

      1000 سال پرانا دیو ہیکل ‘میجر اوک’ درخت ہمیشہ کے لیے خاموش؛ شیئر ووڈ فاریسٹ کا قدیم ترین ورثہ ختم!

      ٹائیٹن آبدوز حادثے کی تین سال بعد تحقیقاتی رپورٹ جاری

      آئی فون صارفین کے لئے بری خبر، ایپل نے بڑا اعلان کردیا

      بھارتی طیاروں پر پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر عائد پابندی میں توسیع

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    اوپیک کی سیاست، سعودی گرفت اور امارات کی بغاوت تیل کی عالمی جنگ کا نیا باب

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    عالمی توانائی کی سیاست ایک نئے اور غیر متوقع موڑ پر کھڑی ہے جہاں سعودی عرب کی دہائیوں پر محیط قیادت کو پہلی بار ایک سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) سے اچانک اخراج نہ صرف خلیجی اتحاد میں دراڑ کا مظہر ہے بلکہ عالمی تیل کی منڈی کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، جو اوپیک میں سخت اور مرکزی کنٹرول کے لیے مشہور ہیں، اس وقت اپنی قیادت کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ امارات، جو اوپیک کا ایک بڑا اور اہم رکن تھا، طویل عرصے سے اپنی پیداواری حد (quota) پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہا تھا اور اب اس نے مکمل علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
    یہ فیصلہ محض معاشی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں گہرے سیاسی اور اسٹریٹجک عوامل کارفرما ہیں۔ امارات کی خواہش ہے کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار کو اوپیک کی پابندیوں سے آزاد کر کے عالمی منڈی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک کی پالیسیاں ابوظہبی کے معاشی اہداف کے لیے رکاوٹ بن چکی تھیں، جبکہ سعودی عرب کے برعکس امارات کی معیشت تیل پر مکمل انحصار نہیں رکھتی، جس سے اس کی پالیسی زیادہ لچکدار ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران جنگ کے باعث اسٹریٹ آف ہرمز بند ہے اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اس بحران نے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا بلکہ اوپیک کے اندر اتحاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
    امارات کا اخراج درحقیقت سعودی عرب کے اس روایتی اثر و رسوخ کو چیلنج کرتا ہے جو وہ اوپیک کے ذریعے عالمی تیل کی قیمتوں پر قائم رکھتا آیا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب اتفاقِ رائے کے ذریعے فیصلے کرواتا تھا، مگر حالیہ برسوں میں اس کا انداز زیادہ یکطرفہ ہو گیا، جس نے دیگر ارکان خصوصاً امارات کو ناراض کیا۔ مزید برآں، امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ یمن، سوڈان اور سرمایہ کاری کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے مفادات مختلف رہے ہیں۔ یہ اختلافات اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور خلیجی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
    اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو امارات کا اوپیک چھوڑنا عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ چونکہ یہ ملک تیل کی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے مستقبل میں یہ آزادانہ پیداوار بڑھا کر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اوپیک کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرے گا اور ممکنہ طور پر ایک نئی “قیمتوں کی جنگ” کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ میری رائے میں یہ واقعہ صرف ایک تنظیمی اختلاف نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اوپیک، جو کبھی تیل کی عالمی سیاست کا محور تھا، اب اندرونی اختلافات اور جغرافیائی سیاست کے دباؤ میں اپنی گرفت کھوتا نظر آ رہا ہے۔ اگر امارات کی طرح دیگر ممالک بھی خودمختاری کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اوپیک کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کی “آہنی گرفت” اب پہلی بار حقیقی معنوں میں چیلنج ہو رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا ریاض اپنی قیادت برقرار رکھ پاتا ہے یا عالمی تیل کی سیاست ایک نئے، زیادہ منتشر اور غیر متوازن دور میں داخل ہو جاتی ہے

    Related Posts

    شہیدلیفٹینٹ طہٰ عباسی کی شہادت پرپروفیسر شاہد نواز عباسی کے گھر جا کر تعزیت

    ریسٹورنٹ میں شارٹ سرکٹ کے باعث  آتشزدگی،دو منزلیں جل گئیں

    یونین کونسل مری سٹی کی تقسیم کو مسترد کرتے ہیں امتیازمغل

    مقبول خبریں

    پاکستان مخالف بیانیے اور فوج کے خلاف اکسانے کی کوششیں ناقابل برداشت ہیں، سردار عتیق احمد خان

    بے مثال ، بے غرض محبت ؛ ایتھوپیا کے 12 سالہ لڑکے نے بیمار مرغی کے لیے انسانوں کے ہسپتال کا رخ کر لیا، ویڈیو وائرل

    ورلڈ کپ میں پیراگوئے کا کمال؛ 10 کھلاڑیوں کے ساتھ ترکیہ کو مات دے کر تاریخ رقم کر دی

    سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی

    غزہ پر اسرائیلی حملوں میں دو بہنوں سمیت پانچ افرادجاں بحق

    بلاگ

    جنگ کسی نے لڑی، امن کسی نے کرایا، مگر سب سے زیادہ کمائی چین کرے گا؟

    چودہ نکاتی معاہدہ: امن کی دستاویز یا طاقت کی نئی تقسیم؟امریکہ اور ایران معاہدے کا جائزہ

    300 ارب ڈالر کا سوال: سرمایہ کاری، سفارت کاری یا ایران کے لیے نئی شروعات؟

    ”آسٹریلین پاسپورٹ کی برکت !پوری سی سی ڈی نے ماتھا ٹیکا‘‘ انصاف ، عزت صرف غیر ملکی پاسپورٹ والوں کے لیے ہے: فواد چوہدری

    ہانیہ کا خون ہمارے نظام کی خاموشی اور دادا کی خواہش ؟

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.