تحریر:ڈاکٹر محمد داؤد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
عالمی توانائی کی سیاست ایک نئے اور غیر متوقع موڑ پر کھڑی ہے جہاں سعودی عرب کی دہائیوں پر محیط قیادت کو پہلی بار ایک سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے۔ حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات کا اوپیک (OPEC) سے اچانک اخراج نہ صرف خلیجی اتحاد میں دراڑ کا مظہر ہے بلکہ عالمی تیل کی منڈی کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، جو اوپیک میں سخت اور مرکزی کنٹرول کے لیے مشہور ہیں، اس وقت اپنی قیادت کے سب سے بڑے امتحان سے گزر رہے ہیں۔ امارات، جو اوپیک کا ایک بڑا اور اہم رکن تھا، طویل عرصے سے اپنی پیداواری حد (quota) پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہا تھا اور اب اس نے مکمل علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
یہ فیصلہ محض معاشی نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں گہرے سیاسی اور اسٹریٹجک عوامل کارفرما ہیں۔ امارات کی خواہش ہے کہ وہ اپنی تیل کی پیداوار کو اوپیک کی پابندیوں سے آزاد کر کے عالمی منڈی میں زیادہ فعال کردار ادا کرے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اوپیک کی پالیسیاں ابوظہبی کے معاشی اہداف کے لیے رکاوٹ بن چکی تھیں، جبکہ سعودی عرب کے برعکس امارات کی معیشت تیل پر مکمل انحصار نہیں رکھتی، جس سے اس کی پالیسی زیادہ لچکدار ہو گئی ہے۔ دوسری جانب، یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں ایران جنگ کے باعث اسٹریٹ آف ہرمز بند ہے اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو چکی ہے۔ اس بحران نے نہ صرف عالمی تیل کی قیمتوں کو بلند ترین سطح پر پہنچا دیا بلکہ اوپیک کے اندر اتحاد کو بھی کمزور کر دیا ہے۔
امارات کا اخراج درحقیقت سعودی عرب کے اس روایتی اثر و رسوخ کو چیلنج کرتا ہے جو وہ اوپیک کے ذریعے عالمی تیل کی قیمتوں پر قائم رکھتا آیا ہے۔ ماضی میں سعودی عرب اتفاقِ رائے کے ذریعے فیصلے کرواتا تھا، مگر حالیہ برسوں میں اس کا انداز زیادہ یکطرفہ ہو گیا، جس نے دیگر ارکان خصوصاً امارات کو ناراض کیا۔ مزید برآں، امارات اور سعودی عرب کے درمیان اختلافات صرف تیل تک محدود نہیں بلکہ یمن، سوڈان اور سرمایہ کاری کے میدان میں بھی دونوں ممالک کے مفادات مختلف رہے ہیں۔ یہ اختلافات اب کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور خلیجی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
اقتصادی لحاظ سے دیکھا جائے تو امارات کا اوپیک چھوڑنا عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ چونکہ یہ ملک تیل کی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے مستقبل میں یہ آزادانہ پیداوار بڑھا کر قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام اوپیک کی اجتماعی طاقت کو کمزور کرے گا اور ممکنہ طور پر ایک نئی “قیمتوں کی جنگ” کا آغاز بھی ہو سکتا ہے۔ میری رائے میں یہ واقعہ صرف ایک تنظیمی اختلاف نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ اوپیک، جو کبھی تیل کی عالمی سیاست کا محور تھا، اب اندرونی اختلافات اور جغرافیائی سیاست کے دباؤ میں اپنی گرفت کھوتا نظر آ رہا ہے۔ اگر امارات کی طرح دیگر ممالک بھی خودمختاری کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اوپیک کا مستقبل غیر یقینی ہو سکتا ہے۔ سعودی عرب کی “آہنی گرفت” اب پہلی بار حقیقی معنوں میں چیلنج ہو رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ آیا ریاض اپنی قیادت برقرار رکھ پاتا ہے یا عالمی تیل کی سیاست ایک نئے، زیادہ منتشر اور غیر متوازن دور میں داخل ہو جاتی ہے

