نیویارک: عالمی منڈی میں پیر کے روز سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اس گراوٹ کی بنیادی وجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات اور امریکی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بتائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات کے اثرات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔
مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سونے کی قیمتوں میں درج ذیل کمی دیکھی گئی:
اسپاٹ گولڈ: عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,599.45 ڈالر فی اونس پر آ گئی ہے۔
گولڈ فیوچرز: جون کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں 0.7 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے بعد یہ 4,611.40 ڈالر پر ٹریڈ ہو رہے ہیں۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوس ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 800 روپے کم ہو کر 4 لاکھ 79 ہزار 962 روپے ہو گئی۔ملک میں 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 257 روپے کی کمی کے بعد 4 لاکھ 11 ہزار 490 روپے ہو گئی۔ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ سونے پر دباؤ بڑھنے کے پیچھے چند اہم عوامل ہیں:
مہنگائی کا دباؤ: مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔
امریکی مرکزی بینک (فیڈرل ریزرو) نے گزشتہ ہفتے شرح سود کو برقرار رکھتے ہوئے جو سخت لہجہ اپنایا، اس سے رواں سال شرح سود میں کمی کی توقعات دم توڑ گئی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن مذاکرات کی خبروں نے بھی سونے کی قیمتوں میں استحکام کے بجائے کمی کی طرف رجحان پیدا کیا ہے۔
سونے کے علاوہ دیگر دھاتوں جیسے چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں کسی ایک سمت کے بجائے ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔ سرمایہ کار فی الوقت عالمی معاشی صورتحال اور مختلف خطوں میں جاری کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مستقبل کی سرمایہ کاری کا فیصلہ کر سکیں۔

