واشنگٹن/کیمپ بوہرنگ: امریکی میڈیا ادارے ‘این بی سی نیوز’ (NBC News) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں ہوش رُبا انکشاف کیا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے ایرانی حملوں نے اس سے کہیں زیادہ تباہی مچائی ہے جتنی کہ پبلک کو بتائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، ایران نے امریکی دفاعی نظام کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ یہ دعوے کر رہی تھی کہ ایرانی عسکری قوت کا "سر قلم” کیا جا چکا ہے اور ان کا ریڈار سسٹم مکمل طور پر نیست و نابود ہو چکا ہے، لیکن حقائق اس کے برعکس نکلے۔ صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے فخریہ بیان دیا تھا کہ "ایرانیوں کے پاس طیارہ شکن سامان نہیں بچا اور ہم ایک ناقابلِ شکست فوجی قوت ہیں”، تاہم ایران نے اسی دوران میزائلوں، ڈرونز اور لڑاکا طیاروں سے امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا کر ان دعووں کو غلط ثابت کر دیا۔
رپورٹ کا سب سے چونکا دینے والا پہلو کویت میں واقع امریکی فوجی اڈے ‘کیمپ بوہرنگ’ پر ایرانی ایف-5 (F-5) لڑاکا طیارے کا حملہ ہے۔ ہزاروں امریکی فوجیوں کی موجودگی اور جدید ترین فضائی دفاعی نظام نصب ہونے کے باوجود ایرانی طیارہ اڈے پر بمباری کرنے میں کامیاب رہا۔
این بی سی نیوز نے تین اعلیٰ حکومتی اہلکاروں اور کانگریس کے دو معاونین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان اڈوں کو پہنچنے والا نقصان اتنا شدید ہے کہ ان کی مرمت اور بحالی کے لیے اربوں ڈالرز درکار ہوں گے۔
اس رپورٹ نے پینٹاگون کے ان دعووں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں جن میں امریکی اڈوں کو محفوظ ترین قرار دیا جاتا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا امریکی ریڈارز اور ایئر ڈیفنس کو چکمہ دے کر بمباری کرنا خطے میں طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
تہلکہ خیز رپورٹ: امریکی فوجی اڈوں پر ایرانی حملے توقع سے زیادہ تباہ کن، مہلک تھے، اربوں ڈالر کا نقصان

