تحریر:رانا سہیل احمد
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
عالمی سیاست کی بساط پر بچھنے والے مہروں کی چالیں اکثر عوام کی نظروں سے اوجھل رہتی ہیں، مگر ان کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ حالیہ واشنگٹن،، تہران مذاکرات اسی پیچیدہ کھیل کی ایک جھلک ہیں، جہاں بظاہر امن کی کوششیں جاری ہیں، مگر پسِ پردہ مفادات کا تصادم شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ مشرقِ وسطیٰ عالمی طاقتوں کے لیے صرف ایک خطہ نہیں بلکہ اسٹریٹیجک اور معاشی مفادات کا مرکز ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اگر کم ہوتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے میں اگر مذاکرات کامیابی کی جانب بڑھیں تو یہ کئی طاقتور حلقوں کے مفادات کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، کیونکہ کشیدگی خود ایک صنعت بن چکی ہے ایسی صنعت جس میں اسلحہ، توانائی اور مالیاتی منڈیاں سب جڑی ہوئی ہیں۔ امریکی صدر کے دورِ سیاست میں یہ تاثر بارہا سامنے آیا کہ کاروباری سوچ اور ریاستی فیصلے ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ نہیں رہے۔ ناقدین کے مطابق عالمی کشیدگی کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ بعض سرمایہ کاروں کے لیے غیر معمولی منافع کا ذریعہ بنتا ہے۔ اگرچہ اس حوالے سے براہِ راست شواہد ہمیشہ واضح نہیں ہوتے، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جنگ یا جنگ کا خدشہ عالمی منڈیوں میں غیر یقینی پیدا کرتا ہے اور غیر یقینی ہمیشہ کچھ لوگوں کے لیے موقع بن جاتی ہے۔
دوسری جانب ایران کی عسکری پیش رفت، خصوصاً سپر سونک میزائل ٹیکنالوجی، نے عالمی طاقتوں کو ایک نئی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ طاقت کا یہ توازن اگر بگڑتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ جہاں تک مختلف لابیز یا اثرورسوخ رکھنے والے گروہوں کا تعلق ہے، یہ بات درست ہے کہ ہر ملک کے اندر مختلف مفاداتی گروہ اپنی پالیسیوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم انہیں کسی ایک مذہب یا قوم سے جوڑ کر پیش کرنا نہ صرف حقیقت کو سادہ بنا دیتا ہے بلکہ پیچیدہ عالمی سیاست کو غلط زاویے سے دیکھنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں طاقت کا کھیل مفادات، وسائل اور اثرورسوخ کے گرد گھومتا ہے نہ کہ صرف شناخت کی بنیاد پر۔
ادھر چین اور روس جیسے ممالک اس صورتحال کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے نہ صرف علاقائی اثرورسوخ بڑھا رہے ہیں بلکہ دفاعی اور معاشی میدان میں بھی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس امریکا کو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا ہے، جس کے اثرات اس کی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال ایک موقع بھی ہو سکتی ہے اگر دانشمندی سے خارجہ پالیسی کو ترتیب دیا جائے۔ بدلتی ہوئی عالمی صف بندی میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ جذبات کے بجائے حکمت عملی سے فیصلے کرے۔ کیا دنیا واقعی امن کی طرف بڑھ رہی ہے یا جنگ اب ایک ایسا کاروبار بن چکی ہے جسے ختم کرنا کسی کے مفاد میں نہیں؟ مگر تاریخ یہ ضرور بتاتی ہے کہ طاقت اور معیشت کا گٹھ جوڑ ہمیشہ عالمی فیصلوں پر اثر انداز ہوتا رہا ہے۔
“واشنگٹن–تہران شطرنج: امن کے پردے میں مفادات کی جنگ، دنیا کس سمت جا رہی ہے؟”


