نیویارک / لندن: عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ تجارتی سیشنز کے دوران سونے کی قیمت میں 1.59 فیصد کا بڑا جمپ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کو دنگ کر کے رکھ دیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ (Spot Gold) کی قیمت اس وقت 4,792 ڈالر سے 4,866 ڈالر فی اونس کے درمیان ٹریڈ کر رہی ہے۔ یہ سطح سونے کی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں سے ایک سمجھی جا رہی ہے۔
فی گرام قیمت: 24 قیراط سونے کی فی گرام قیمت بھی غیر معمولی اضافے کے بعد 153.71 ڈالر تک جا پہنچی ہے۔
18 سے 20 اپریل 2026 کے دوران سونے کی قیمتیں مسلسل ریکارڈ حدوں کے قریب مستحکم رہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ مارکیٹ میں فی الحال کمی کا کوئی امکان نہیں ہے۔
سونا اتنا مہنگا کیوں ہو رہا ہے؟
معاشی ماہرین نے سونے کی قیمتوں میں اس ‘برقی تیزی’ کی دو بڑی وجوہات بیان کی ہیں:
جغرافیائی کشیدگی: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور ایران امریکہ کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں سونا ہمیشہ سے "محفوظ سرمایہ کاری” (Safe Haven) کے طور پر پہلی پسند رہا ہے۔
عالمی سطح پر ڈالر کی صورتحال اور افراطِ زر کے خدشات کی وجہ سے بڑے سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ کے بجائے اپنا سرمایہ سونے کی شکل میں محفوظ کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سونا اس وقت ایک "ہائی ویلیو کنسولیڈیشن” مرحلے میں ہے، یعنی قیمتیں ایک بلند مقام پر جم گئی ہیں اور یہاں سے کسی بھی وقت نیا بریک آؤٹ (مزید اضافہ) متوقع ہے۔ اگر عالمی سیاسی حالات میں بہتری نہ آئی تو سونے کی قیمت 5,000 ڈالر کی نفسیاتی حد کو بھی عبور کر سکتی ہے۔
سونے کی قیمتوں میں اس تیزی نے جہاں بڑے سرمایہ کاروں کے منافع میں اضافہ کیا ہے، وہیں عام صارفین اور زیورات کی صنعت سے وابستہ افراد کے لیے پریشانی کی لہر پیدا کر دی ہے
! عالمی منڈی میں ‘گولڈن طوفان’، سونے کی فی اونس قیمت 4,860 ڈالر سے تجاوز کر گئی؛ سرمایہ کاروں کی چاندی

