سنگاپور / تہران: ایشیا کے ابتدائی تجارتی سیشن میں عالمی منڈی اس وقت لرز اٹھی جب خام تیل کی قیمتوں میں 7 فیصد کا ہوش ربا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ محض چند گھنٹوں کے دوران برینٹ خام تیل 97 ڈالر اور امریکی خام تیل (WTI) 88 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران نے امن مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
سفارتی محاذ پر صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوگئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان میں مذاکراتی وفد بھیجنے کے عندیہ کے باوجود تہران نے سخت موقف اپنایا۔ جواب میں واشنگٹن نے بھی لہجہ تلخ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ”اگر تہران نے مجوزہ شرائط قبول نہ کیں تو مزید فوجی حملے کیے جا سکتے ہیں۔”
اسی دوران ایک ایرانی شہری کی امریکی حراست میں لیے جانے کی خبر نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح متزلزل ہوا ہے۔
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر سفارتی حل نہ نکلا تو تیل کی قیمتیں بہت جلد 100 ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کر جائیں گی، جس کا براہِ راست اثر پوری دنیا میں مہنگائی کے نئے طوفان کی صورت میں نکلے گا۔ کیا اسلام آباد میں متوقع مذاکرات اس بحران کو ٹال سکیں گے یا دنیا ایک نئی عالمی جنگ کی لپیٹ میں آنے والی ہے؟ یہ سوال اب ہر زبان پر ہے۔
ایران امریکاجنگ کا سایہ یا تیل کا بحران؟ برینٹ خام تیل 97 ڈالر تک جا پہنچا،

