تحریر:ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

مریم نواز شریف طلبہ و طالبات کی پسندیدہ سیاسی شخصیت بن چکی تھیں۔
بدقسمتی سے کتے کے کاٹنے سے ایک بچے کی ہلاکت کا واقع ہوتا ہے تو وزیراعلیٰ مریم نواز شریف انتظامی افسران کی سخت سرزنش کرتی ہیں کہ پنجاب کے ہر بچے اور شہری کی حفاظت کو پہلی ترجیح بنایا جائے ساتھ ہی انہوں نے انتظامی افسران کو وارننگ جاری کی کہ کہیں بھی انسانی جان کا نقصان ہوا تو متعلقہ افسر کو سزا ملے گی۔
شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے زخمی کتوں کا علاج معالجہ اور انکی ویکسینیشن کرنے کی بجائے ہمیشہ سے اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی ماہر بیوروکریسی نے انسانیت اور ضمیر کو مردہ کرکے وحشی جلاد کا روپ دھار لیا اور کتوں کی لاشوں کے ڈھیر لگادیے۔ ستھرا پنجاب جس کی دھوم مچی ہوئی تھی اس کے ورکرز کے ہاتھوں میں جھاڑو کی بجائے بندوق دے کر کتے مارنے پر لگادیا گیا جبکہ کچرا اٹھانے والی گاڑیوں میں کتوں کی لاشوں کی تصایر کو قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کے ساتھ شئیر کیا۔
معصوم و بے زبان کتوں کے قتل عام نے ہر باضمیر انسان کو دکھی کردیا۔
گذشتہ دنوں ایک دوست ملنے آئے تو کہنے لگے کہ چند دن قبل ڈپٹی کمشنرز کے انٹرویو تھے تو اس نے ڈی سی شپ سے انکار کردیا کہ اگر ڈی سی لگ کر ان معصوم جانوں کو قتل کرنا ہے تو ایسی ڈی سی شپ سے معذرت۔
لاکھوں طلبہ و طالبات نے سوشل میڈیا پر
” 💔Broken Heart💔“
کے ساتھ "سٹاپ ڈاگ کلنگ” کے سٹیٹس لگائے۔ ہزاروں طلبہ کے سوشل میڈیا سٹیٹس تھے کہ مریم نواز اگر آپ ان معصوموں کے قتل کا حکم دے رہی ہیں تو
we no more love you 😞🙏
اندرون لاہور کی چند خواتین کا انٹرویو وائرل ہورہا ہے کہ کلثوم نواز کی بیٹی بے رحم نہیں ہوسکتی، مذکورہ ویڈیو میں خواتین مادر جمہوریت کلثوم نواز کی رحم دلی اور شخصیت کے حوالے سے بتا رہی تھی کہ مرحوم کلثوم نواز تو باقاعدگی سے ان بے گھر کتوں کیلئے روٹی کا اہتمام کرتی تھیں۔
مختلف دیہاتوں سے ویڈیوز دیکھنے کو مل رہی ہیں ستھرا پنجاب اور میونسپل کمیٹی کے اہلکار جانوروں کی حفاظت کیلے رکھے گئے پالتو کتوں کو بھی زہر دے کر چلے گئے۔
سپیشل برانچ اور انٹیلیجنس بیورو سے رپورٹ لیں آپ کو خوفناک حقائق ملیں گے کہ کتوں کو مارنے کے واقعات کے دوران کتنے شہری فائرنگ سے زخمی ہوئے اسی طرح کتوں کو مارنے کیلئے پھینکے گئے strychnine زہر سے چار بچوں کی ہلاکت اور درجنوں بچوں کے ہسپتال میں جانے کی اطلاعات ہیں۔ فائرنگ اور زہر سے ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کا کون ذمہ دار؟
پنجاب بھر کے اضلاع کیلے ایک ہی ٹھیکیدار سے خریدے گئے strychnine زہر کی وجہ سے فضا زہریلی ہوچکی ہے۔
جب سے کتا مار مہم شروع گئی کی گئی ہے تب سے کتا کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ فائرنگ سے زخمی ہونے والا کتا اگر مرتا نہیں ہے تو وہ زخموں کی وجہ سے باؤلا ہو جاتا ہے ۔
گزارش ہے کہ کتوں کو فائرنگ اور زہر سے باؤلا کرنے یا تڑپا تڑپا کر مارنے کی بجائے ویکسینیشن کریں۔
وزیر اعلیٰ تک کوئی بھی حقائق پہنچانے کی زحمت نہیں کرتا کہ آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔
بے شمار واقعات ہیں جہاں کتوں نے انسانوں سے دوستی نبھاتے ہوئے جان دے دی۔ لیکن انسان انتہائی ناشکرا ہے 99نیکیاں بھول جاتا ہے اور ایک برائی یاد رکھتا ہے۔
کتوں کے ساتھ صدیوں کے تعلق کو بھول کر چند ناخوشگوار واقعات کی آڑ میں ان کا قتل عام شروع کر دینا کسی طور پر بھی جسٹیفائیڈ نہیں۔ کتوں کو مارنا یا انسانوں سے دور کرنا حل نہیں اس لیے کتوں کو مارنے اور ان کے کیلئے شہر سے باہر شیلٹر ہوم بنانے کی بجائے ان کی ویکسینیشن کرنی چاہئے۔ مغربی ممالک میں جتنے بھی شیلٹر ہوم ہیں وہ انسانی آبادی میں بنائے جاتے ہیں صرف موذی مرض میں مبتلا کتوں کیلئے ریہبلیٹیشن سینٹر دوردراز جگہ ہوتے ہیں۔
زخمی اور بیمار کتوں کو ریہیبلیٹیشن اور شیلٹر فرام کیا جائے۔ زخمی کتوں کو فوری طور پر علاج معالجہ فراہم کیا جائے تو باؤلے ہو کر کاٹیں گے نہیں۔
جبکہ صحت مند کتوں کو ویکسینیشن اور ٹریکنگ سسٹم کے ساتھ سوسائٹی کا حصہ بنایا جائے نا کہ ان کا قتل عام اور شہرسے باہر جنگل میں چھوڑ آنا۔
بے زبانوں کا قتل عام حل نہیں بلکہ انکی ویکسینیشن کرنی چاہئے تھی۔
کتا انسان کے ساتھ جذباتی تعلق رکھتا ہے اور انتہائی وفادار ساتھی سمجھا جاتاہے۔
کتے اور انسانوں کی دوستی ہزاروں سال پرانی ہے، جس کے باعث کتے انسانوں کے ساتھ رہنے اور ان کی زندگی کا حصہ بننے کے عادی ہو چکے ہیں۔کتے انسانوں کے ساتھ ملنے اور انہیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔
ہزاروں سالوں سے انسانی ابادی میں رہنے والے کتوں کو ختم کرنے سے ایکو سسٹم بری طرح متاثر ہوگا۔ ماضی میں اسی طرح ان سرکاری بے عقلوں نے چیلوں کا خاتمہ کیا تھا تو بعد میں ہمیں بیرون ملک سے چیلیں امپورٹ کرنی پڑی تھی۔

