واشنگٹن: ‘این بی سی نیوز ڈیسیژن ڈیسک’ (NBC News Decision Desk) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سروے کے نتائج نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ 19 اپریل کو جاری ہونے والے اس پول کے مطابق، 63 فیصد بالغ امریکیوں نے صدر ٹرمپ کی بطور صدر کارکردگی کو مسترد کر دیا ہے، جبکہ صرف 37 فیصد نے ان کے حق میں رائے دی ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں اس اچانک گراوٹ کے پیچھے دو بنیادی عوامل کارفرما ہیں:
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی تنازع اور مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی جنگ نے امریکی عوام میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور زندگی گزارنے کی بلند ہوتی لاگت نے عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے۔
ایران کے خلاف چھیڑی گئی جنگ کے معاملے پر صدر ٹرمپ کو سخت عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ سروے کے مطابق:
67 فیصد امریکیوں نے ایران جنگ سے نمٹنے کے صدارتی طریقے کو غلط قرار دیا ہے۔
صرف 33 فیصد عوام اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں۔
54 فیصد لوگوں نے اس تنازع پر اپنی "شدید ناپسندیدگی” (Strong Disapproval) کا اظہار کیا ہے۔
مہنگائی اور معیشت: سب سے بڑا مسئلہ
امریکی ووٹرز کے لیے معیشت اب بھی نمبر ون مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
68 فیصد عوام مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔
52 فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی کے معاملے پر صدر کی کارکردگی کو "انتہائی ناقص” سمجھتے ہیں۔ یہ گزشتہ سال اگست کے مقابلے میں 7 فیصد کا بڑا اضافہ ہے۔
سروے میں شامل شہریوں کی اکثریت نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ہے:
67 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ امریکہ "غلط ٹریک” پر چل پڑا ہے۔
صرف 33 فیصد کو لگتا ہے کہ ملک صحیح سمت میں گامزن ہے۔
نیویارک ٹائمز کا ڈیٹا کیا کہتا ہے؟
این بی سی نیوز کے علاوہ ‘نیویارک ٹائمز’ کے یومیہ پولز کے اوسط میں بھی صدر ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 40 فیصد پر ٹھہر گئی ہے، جبکہ 56 فیصد عوام ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کا یہ سال ٹرمپ انتظامیہ کے لیے کڑا امتحان ثابت ہو رہا ہے۔ اگر ایران کے ساتھ جاری جنگ میں جلد کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی یا معاشی اشاریے بہتر نہ ہوئے، تو آنے والے مہینوں میں صدر کی سیاسی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے۔
ایران جنگ اور مہنگائی ،ٹرمپ کی مقبولیت میں تاریخی کمی: 63 فیصد عوام کارکردگی سے ناخوش، یو ایس ٹوڈے

