کیلیفورنیا / نیویارک: ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا زلزلہ آ گیا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی ٹیک کمپنی ‘میٹا’ نے اپنے 16,000 ملازمین کو نکالنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، جس کا پہلا مرحلہ 20 مئی سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اب کارپوریٹ دنیا میں "انسانی دماغ” پر "مصنوعی ذہانت” (AI) کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
آئی ٹی پروفیشنلز کے لیے ‘تباہی کا سال’
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ صرف میٹا کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری ٹیک انڈسٹری ایک بھیانک خواب سے گزر رہی ہے۔ ‘لے آفس ڈاٹ ایف وائی آئی’ (Layoffs.fyi) کے مطابق، رواں سال اب تک 73,212 سے زائد ٹیک ملازمین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق، میٹا اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ‘ری اسٹرکچرنگ’ (تنظیمی تبدیلی) کر رہا ہے۔ اس تبدیلی کی اصل وجہ مارک زکربرگ کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس، جنریٹو ٹولز اور مشین لرننگ پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہے۔
کمپنی اب اپنے پیچیدہ کاموں کو سافٹ ویئر اور اے آئی بوٹس کے حوالے کر رہی ہے، جس کے بعد ہزاروں انسانوں کی ضرورت ختم ہو گئی ہے۔
ہلا وار: 20 مئی سے شروع ہونے والے پہلے مرحلے میں ہی 8,000 افراد کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے کا خدشہ ہے۔
مستقبل کی دھند: رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سال کے دوسرے حصے میں بھی چھنٹائی یا lay offکا یہ بے رحم سلسلہ تھمنے والا نہیں ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹا کی جانب سے اتنے بڑے پیمانے پر برخاستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ‘اے آئی’ اب صرف ایک سہولت نہیں بلکہ انسانی ملازمتوں کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ وہ کام جو پہلے سینکڑوں انجینئرز اور ماہرین مل کر کرتے تھے، اب چند طاقتور الگورتھم منٹوں میں سر انجام دے رہے ہیں۔
آئی ٹی ماہرین اب یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر میٹا جیسی دیو ہیکل کمپنی اپنے 20 فیصد کے قریب افرادی قوت کو اے آئی کی وجہ سے نکال سکتی ہے، تو باقی چھوٹی کمپنیوں کا کیا بنے گا؟ کیا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کمپیوٹر کوڈز، گوشت پوست کے انسانوں سے زیادہ قیمتی ہو گئے ہیں؟
انسانوں کی چھٹی، مشینوں کا راج: میٹا میں 16 ہزار ملازمین فارغ، کیا اے آئی (AI) آپ کا روزگار بھی چھین لے گی؟

