اسلام آباد: پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات نے اسلام آباد کو اس وقت ایک ’پراسرار سفارتی قلعے‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود پاکستان کی سرزمین پر لینڈ کر چکے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر اب تک یہ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں اور مذاکرات کی اصل میز کہاں سجے گی۔
عموماً ایسے بڑے عالمی مقابلوں اور سفارتی بیٹھکوں میں میڈیا کی چہل پہل اور پروٹوکول کی نمائش دیکھنے کو ملتی ہے، مگر اس بار معاملہ بالکل الٹ ہے۔ وفود کے پہنچ جانے کے باوجود یہ بات اب تک صیغہ راز میں ہے کہ بات چیت کا طریقہ کار کیا ہوگا—آیا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے یا بالواسطہ طریقے سے پیغامات کا تبادلہ کیا جائے گا۔
سیکیورٹی یا نئی سفارتی حکمتِ عملی؟
انتہائی اہم امور کو مکمل طور پر پسِ پردہ رکھنے کے اس اقدام کو اگرچہ سیکیورٹی پروٹوکول کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اسے پاکستانی سفارت کاری کی تاریخ میں ایک بالکل نیا اور انوکھا تجربہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قدر رازداری ظاہر کرتی ہے کہ یہ مذاکرات کس قدر حساس نوعیت کے ہیں اور فریقین کسی بھی بیرونی مداخلت یا وقت سے پہلے خبر لیک ہونے کے خطرے سے بچنا چاہتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ کے حساس ترین مذاکرات ، کسی کو ایرانی ، امریکی وفود کا پتہ ہے نا مذاکراتی مقام کا،

