لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی فعال قیادت میں صوبے میں صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چین کے معروف کاروباری ادارے کنلون گروپ اور سندر گرین گروپ کے وفد نے وزیراعلیٰ سے ملاقات کی، جس میں اربوں روپے کے منصوبوں پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کا سب سے اہم نتیجہ سندر گرین گروپ اور کنلون گروپ کے اشتراک سے لاہور میں سولر پینل مینوفیکچرنگ شروع کرنے کا معاہدہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان سولر کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور موجودہ انرجی بحران کی وجہ سے لوگ تیزی سے سولر انرجی کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، لاہور میں باہمی اشتراک کار سے ہزار ایکڑ پر مشتمل ایک جدید انڈسٹریل اسٹیٹ پراجیکٹ کی بھی اصولی منظوری دی گئی۔
تعلیمی اور ووکیشنل شعبے میں ایک تاریخی اقدام کے تحت، کنلون گروپ پنجاب کے 50 ہزار طلبہ کو چین میں ایڈوانس ووکیشنل اور انڈسٹریل ٹریننگ کرانے پر متفق ہو گیا ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ان نئے پراجیکٹس سے پنجاب میں اندازاً 18 ہزار روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مزید برآں، پنجاب میں کوئلہ سے پیٹروکیمیکل مصنوعات حاصل کرنے کی ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا بھی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے چینی اور مقامی سرمایہ کاروں کو انڈسٹریلائزیشن کے لئے بھرپور معاونت کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت انڈسٹریلائزیشن کے فروغ کے لئے ”سٹارٹ ٹو ڈے“ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ:
”حکومت کو بزنس نہیں کرنا بلکہ بزنس مین کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ دو سال میں اصلاحات لانے پر توجہ دی ہے، اب پنجاب سرمایہ کاری کے لئے موزوں ترین صوبہ ہے۔“
مریم نواز شریف نے پاک چین دوستی کو اٹوٹ رشتہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین ان کا پسندیدہ ملک ہے اور انہوں نے اپنا پہلا سرکاری دورہ بھی چین کا ہی کیا تھا۔
چینی وفد میں چین کے معروف ادارے انر منگولیا کول مائن کے سی ای او وانگ جین ہنان شنگ، اور انویسٹمنٹ کمپنی کے سی ای او ژاؤ گانگ بوبھی شامل تھے۔ دوسری جانب سندر گرین گروپ کے چیئرمین محمد عابد، سی ای او عظیم افتخار، ڈائریکٹر رانا فیصل حیات، اور اوسس کے سی ای او دانش احمد بھی ملاقات میں موجود تھے۔

