Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

      چین کی الیکٹرک گاڑی نے نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا؛ رفتار 503 کلومیٹر فی گھنٹہ سے تجاوز کر گئی

      ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

      واٹس ایپ صارفین کیلئے جادو کا چراغ بن گیا، بڑی سہولت متعارف

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    چاولوں میں چھپا قتل کا راز، سالانہ ختم کی مٹھاس نے جرم کو بے نقاب کیا، عمر ورک کی سلیکشن کام کر گئی

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
    جرائم کی دنیا میں سچ ہمیشہ شور مچا کر سامنے نہیں آتا، بعض اوقات وہ خاموشی سے لوگوں کے رویوں، معمولات اور چھوٹی چھوٹی باتوں میں چھپا ہوتا ہے۔ لاہور کے موضع کرول گھاٹی میں ہونے والا ایک نوجوان کا قتل بھی بظاہر ایک ایسا ہی اندھا کیس تھا جب جدید ٹیکنالوجی، سی سی ٹی وی کیمرے اور نہ ہی فرانزک سہولیات موجود تھیں پولیس کے لیے یہ کیس ایک بند گلی بن چکا تھا۔ جب روایتی طریقے ناکام ہو جائیں تو اصل امتحان تفتیشی ذہن کا ہوتا ہے، اور یہی وہ مقام تھا جہاں انسانی مشاہدہ، صبر اور نفسیات نے وہ کر دکھایا جو مشینیں نہ کر سکیں۔ یہ کیسا سی آئی اے کوتوالی کے سپرد ہوا تو ایس پی عمر ورک نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا انہوں نے یہ ذمہ داری کسی اعلیٰ افسر کو نہیں بلکہ ایک کانسٹیبل، مظہر، کو دی۔ بظاہر یہ ایک معمولی تقرری تھی، مگر درحقیقت یہی اس کیس کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔
    مظہر نے تفتیش کو فائلوں سے نکال کر گلیوں میں لے آیا۔ اس نے وردی اتار کر انسانوں میں گھلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ جائے وقوعہ کے قریب مسجد میں جا کر نماز ادا کرتا، لوگوں سے میل جول بڑھاتا، گپ شپ کرتا گویا ایک پولیس اہلکار نہیں بلکہ محلے کا ایک عام فرد بن گیا تھا۔ یہی وہ حکمت عملی تھی جس نے خاموش دیواروں کو بولنے پر مجبور کیا۔ ایک دن اسے ایک بظاہر معمولی بات کا علم ہوا جس دن نوجوان قتل ہوا، اسی دن مخالفین کی طرف سے چاول تقسیم کیے گئے تھے۔ پہلی نظر میں یہ ایک اتفاق لگتا تھا، مگر ایک تفتیشی ذہن کے لیے اتفاقات اکثر سوال بن جاتے ہیں۔ جب مخالف فریق کو بلایا گیا تو انہوں نے وضاحت دی کہ یہ ان کے مقتول بچے کا سالانہ ختم تھا۔ پولیس وقتی طور پر مطمئن ہوئی، بلکہ کچھ حد تک شرمندہ بھی کہ شاید وہ غلط سمت میں جا رہی تھی۔ لیکن مظہر نے اس “کہانی” کو حقیقت ماننے سے انکار کر دیا۔ اس نے ایک اور راستہ اپنایا لوگوں سے غیر رسمی بات چیت کے دوران ایک دن اس نے ایک نئے دوست سے یونہی پوچھ لیا “کیا آپ نے بھی وہ چاول کھائے تھے؟” جواب غیر معمولی تھا۔ اس شہری نے خوشی سے بتایا کہ وہ چاول عام نہیں تھے بلکہ “متنجن” تھے میٹھے چاول، جن میں میوہ، بادام اور دیگر لوازمات شامل تھے، اور وہ بھی غیر معمولی مقدار میں تقسیم کیے گئے۔ یہیں سے کہانی نے نیا رخ لیا۔
    سوچنے کی بات یہ تھی کہ غم کے موقع پر مٹھاس کیوں؟ سوگ کے دنوں میں خوشی کا اظہار کیوں؟ یہی تضاد مظہر کے شک کو یقین میں بدل گیا۔
    جب دوبارہ تفتیش کی گئی اور سوال کا زاویہ بدلا گیا تو ملزمان ٹوٹ گئے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے کے قاتل کو اسی تاریخ پر قتل کیا اور اس “بدلے” کی خوشی میں میٹھے چاول تقسیم کیے۔
    یہ قتل ایک کھلا سبق ہے۔ جرم صرف ہتھیار سے نہیں ہوتا، وہ ذہن میں جنم لیتا ہے اور اکثر اپنے پیچھے ایسے نقوش چھوڑ جاتا ہے جو بظاہر معمولی مگر درحقیقت فیصلہ کن ہوتے ہیں۔ ایک تربیت یافتہ دماغ، باریک بینی اور صبر اس سے کہیں زیادہ طاقتور ہتھیار ہیں۔ معاشرتی رویے کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ خوشی، غم، تقسیم، میل جول یہ سب انسان کے اندرونی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک تفتیش کار اگر ان اشاروں کو پڑھنا سیکھ جائے تو سچ زیادہ دور نہیں رہتا۔
    ایک کانسٹیبل کا مسجد میں جا کر لوگوں کے درمیان بیٹھنا بظاہر معمولی عمل تھا، مگر اسی نے ایک اندھے قتل کو بولنے پر مجبور کر دیا۔

    Related Posts

    کراچی: کلفٹن میں گھریلو تنازع، باپ نے کمسن بیٹے کو قتل کرکے خودکشی کرلی

     پانی کے نظام پر حملوں میں تین گنا اضافہ، انسانی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق،  رانا بشارت علی خان

    سانگھڑ: پلاٹ کے تنازع پر نظامانی برادری میں مسلح جھگڑا، نوجوان جاں بحق، دو زخمی

    مقبول خبریں

    کراچی: کلفٹن میں گھریلو تنازع، باپ نے کمسن بیٹے کو قتل کرکے خودکشی کرلی

    سانگھڑ: پلاٹ کے تنازع پر نظامانی برادری میں مسلح جھگڑا، نوجوان جاں بحق، دو زخمی

    مٹیاری: شگر مل روڈ پر ٹریفک حادثہ، کمسن بچہ جاں بحق، 3 افراد شدید زخمی

    شوگر کےخاتمے کا علاج، بجلی سےانسولین کنٹرول کرنیوالی ڈیوائس ایجاد

    چار بوگیوں میں آتشزدگی،مسافروں میں بھگدڑ مچ گئی

    بلاگ

    دیوالی: روشنی، خوشیوں، محبت اور امید کا عظیم تہوار

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.