تہران :غیر ملکی خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے وہ زخم ابھی تک ٹھیک نہیں ہوئے ہیں جو فضائی حملے دوران ان کے چہرے اور پاؤں پر لگے۔
رپورٹ کے مطابق ان کے قریبی حلقے کے تین سورسز نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اس حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای کا چہرہ اور ایک یا دونوں ٹانگیں متاثر ہوئیں، جس میں ان کے والد آیت اللہ خامنہ ای ہلاک ہوئے تھے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بات کرنے والوں کے مطابق 56 سالہ رہنما صحت یاب ہو رہے ہیں اور ذہنی طور پر بہت تیز ہیں اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سینیئر حکام سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں جبکہ واشنگٹن کے ساتھ جنگ اور مذاکرات سمیت اہم مسائل پر فیصلہ سازی میں مصروف ہیں۔اس سوال کہ آیا ان کی صحت ملک کی اس نازک صورت حال کے وقت میں ریاستی امور چلانے کی اجازت دیتی ہے، کے حوالے سے ان کے قریبی لوگوں کے اکاؤنٹس ان کی صحت کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے رہے ہیں تاہم غیر ملکی خبررساں ادارہ آزادانہ ذرائع سے ان کی تصدیق نہیں کرا سکا۔امریکی انٹیلی جنس کی جائزہ رپورٹس سے واقفیت رکھنے والے ایک سورس نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ’خامنہ ای کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ ایک ٹانگ کھو چکے ہیں۔‘
شدیدزخمی ہونے کے باوجود بھی مجتبیٰ خامنہ ای ذہنی طورپر تیز،اسلام آباد مذاکرات میں گائیڈ کرتے رہے

