اسلام آباد: امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان آنے والے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی پرواز کے دوران روایتی ’ایئر فورس ٹو‘ کے بجائے ’SAM095‘ کال سائن کے استعمال نے توجہ حاصل کر لی، جسے ماہرین نے غیر معمولی مگر سکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق قرار دیا ہے۔
عام طور پر جب امریکی نائب صدر امریکی فضائیہ کے طیارے میں سفر کرتے ہیں تو اسے ’ایئر فورس ٹو‘ کہا جاتا ہے، جس سے پرواز کی فوری شناخت ممکن ہو جاتی ہے۔ تاہم حساس نوعیت کے مشنز، خصوصاً ایسے حالات میں جہاں علاقائی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات زیادہ ہوں، ’اسپیشل ایئر مشن‘ (SAM) کال سائن استعمال کیا جاتا ہے تاکہ پرواز کی شناخت کم نمایاں رہے، رازداری برقرار رکھی جا سکے اور ٹریکنگ کو مشکل بنایا جا سکے۔
دوسری طرف ایرانی حکومت کے مطابق پاکستان پہنچنے والے ایرانی مذاکراتی وفد کے طیارے کا نام حالیہ جنگ کے دوران میناب سکول سے منسوب کیا گیا ہے۔
’میناب 168‘ سے مراد بچوں سمیت وہ 168 ایرانی شہری ہیں جو ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو ایک میزائل حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے میں ایران کے شہر میناب میں واقع بچوں کا سکول ’شجرۂ طیبہ‘ تباہ ہوا تھا۔
”میناب 168، اور سام 095،“ امریکی اورایرانی طیاروں کے دلچسپ کال سائن

