تحریر:اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اسلام آباد میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے، ایران کا بڑا مطالبہ مان لیا گیا یعنی اس کے منجمد اکاؤنٹس بحال کردئیے گئے تاہم اہم تنازع اب آبنائے ہرمز میں گزرنے والے بحری جہازوں پر ٹیکس کے معاملے پر مرکوز ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بیشتر معاملات طے پا چکے ہیں اور آج ہونے والے اجلاس میں اس حساس مسئلے پر حتمی بات چیت متوقع ہے۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کو مخصوص مدت کے لیے بحری جہازوں سے ٹیکس وصول کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، تاہم اسے مستقل پالیسی کی شکل دینا قابل قبول نہیں۔ اس کے برعکس ایران کا کہنا ہے کہ اسے اپنی سمندری حدود میں سے گزرنے والے تمام تجارتی بحری جہازوں سے مستقل بنیادوں پر ٹیکس لینے کا حق حاصل ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے ایک اور اہم نکتہ بھی اٹھایا ہے جس کے تحت امریکی بحری جہازوں کو ممکنہ طور پر ٹیکس سے استثنیٰ دینے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔
دوسری جانب اس پیش رفت نے خطے میں نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر اسرائیل اور بھارت اس معاملے کو بغور دیکھ رہے ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، اور کسی بھی نئی پالیسی سے توانائی کی عالمی منڈی پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران کو مستقل ٹیکس وصولی کی اجازت ملتی ہے تو اس سے نہ صرف تجارتی لاگت میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ آج کے اجلاس کو اس تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
اسلام آباد مذاکرات کامیاب ،اسرائیل، بھارت کے علاوہ دنیا بھر کو مبارکباد، فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تاریخی کارنامہ


