تحریر:آصف چوہدری
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ایک تعارف
اپنے بارے میں مختصراً یوں کہنا مناسب ہوگا کہ تقریباً ایک دہائی تک انگریزی روزنامے ڈیلی ڈان میں صحافتی ذمہ داریاں نبھانے کے بعد اردو کالم نویسی کی جانب آنا ابتدا میں ایک غیر فطری عمل محسوس ہوا۔ تاہم، میرے نزدیک یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ پاکستان میں ایک بڑی تعداد اردو صحافت کی عادی ہے، جبکہ معلومات تک رسائی انگریزی صحافت میں ایک مخصوص طبقے تک محدود رہتی ہے۔ عام قارئین تک رسائی کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے بے نقاب نیوز میں اب میرے کالم تواتر سے شائع ہوتے رہیں گے۔
حکومت پنجاب نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر کو ٹائم اسکیل پروموشن کے تحت گریڈ 22 میں ترقی دے دی ہے، جس کے بعد وہ صوبائی کیڈر کے واحد افسر بن گئے ہیں جو اس اعلیٰ ترین سرکاری گریڈ تک پہنچے ہیں۔ اس ترقی کے نتیجے میں انہیں صوبے کے اعلیٰ بیوروکریٹس، بشمول چیف سیکرٹری، کے برابر درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق میاں فاروق نذیر گزشتہ 10 سال سے گریڈ 21 میں خدمات انجام دے رہے تھے، جس کی بنیاد پر وہ ٹائم اسکیل پروموشن کے اہل قرار پائے۔ انہیں مارچ 2016 میں گریڈ 21 میں باقاعدہ ترقی دی گئی تھی اور اسی وقت انہیں آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کا چارج بھی سونپا گیا تھا، جسے وہ تاحال سنبھالے ہوئے ہیں۔
محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نئے گریڈ کے مطابق تنخواہوں اور مراعات میں ضروری ردوبدل کریں۔ مزید برآں، فنانس ڈیپارٹمنٹ کی وضاحت کے مطابق ٹائم اسکیل پروموشن ان افسران کو دی جاتی ہے جو اپنے کیڈر میں طویل عرصہ ایک ہی گریڈ میں خدمات انجام دیں اور ترقی کے محدود مواقع کے باوجود اپنی سروس مکمل کریں۔ دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگرچہ میاں فاروق نذیر کو گریڈ 22 میں ترقی دی گئی ہے، تاہم وہ بدستور انتظامی طور پر سیکرٹری داخلہ پنجاب کے ماتحت رہیں گے، جو پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (PAS) سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح پالیسی سازی اور انتظامی اختیارات کا بڑا حصہ اب بھی وفاقی سروس کے افسران کے پاس ہی رہے گا، جبکہ آئی جی جیل خانہ جات کو ضرورت کے مطابق ہدایات جاری کی جاتی رہیں گی۔ ذرائع کے مطابق اس وقت پنجاب بھر میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے متعدد افسران گریڈ 21 میں خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم محکمہ جیل خانہ جات میں فی الحال کوئی افسر گریڈ 21 میں موجود نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات کے موجودہ ڈھانچے کے باعث ترقی کے مواقع محدود ہیں، جس کے پیش نظر ٹائم اسکیل پروموشن ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ مزید یہ کہ آئندہ چند ماہ میں میاں فاروق نذیر کی متوقع ریٹائرمنٹ کے بعد نئے آئی جی جیل خانہ جات کی تقرری بھی متوقع ہے۔ اس عہدے کے لیے گریڈ 20 کے چند سینئر افسران کے نام زیر غور ہیں، جن میں کوکب ندیم وڑائچ، میاں سلیم جلال اور مبشر ملک شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ پروموشن بظاہر ایک مثبت اقدام ہے جو افسران کی حوصلہ افزائی اور سروس اسٹرکچر میں بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے، تاہم اس سے صوبائی اور وفاقی سروسز کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور انتظامی خودمختاری کے حوالے سے بحث بھی جنم لے سکتی ہے۔ خاص طور پر ایسے محکموں میں جہاں پیشہ ورانہ مہارت اور انتظامی خودمختاری اہمیت رکھتی ہے، وہاں اس طرح کے فیصلے پالیسی سطح پر مزید سوالات کو جنم دیتے ہیں۔


