امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس دوم مشن کے خلا باز چاند کی جانب اپنے تاریخی سفر کی تکمیل اور ایک مکمل سورج گرہن دیکھنے کے بعد اب واپس زمین کی طرف رواں دواں ہیں۔
خلا بازوں کی زمین پر واپسی کا سفر چار دن لے گا اور وہ امریکہ کے ایسٹرن سٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق جمعے کی شب آٹھ بج کر سات منٹ پر ملک کے مغربی ساحل کے قریب بحرالکاہل میں اتریں گے۔
اس مشن کے دوران کسی انسان کے زمین سے سب سے زیادہ دوری کے سفر کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا ہے۔
منگل کو چاند کے عقبی حصے کی طرف سے گزرنے کے عمل کے دوران خلائی جہاز پر سوار چاروں خلاباز اس وقت زمین سے سب سے زیادہ فاصلے پر سفر کرنے کا ریکارڈ بنانے میں کامیاب ہوئے جب وہ کرۂ ارض سے چار لاکھ چھ ہزار سات سو اکہتر (406,771) کلومیٹر کے فاصلے پر پہنچے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل زمین سے سب سے دور سفر کا ریکارڈ اپالو 13 کے عملے کے پاس تھا جو 1970 میں چار لاکھ ایک سو اکہتر کلومیٹر دور پہنچے تھے۔
زمین سے ریکارڈ فاصلہ، روشنی کی سطح اور مخصوص مدار کا مطلب ہے کہ اورائن کے عملے نے ایسے مناظر دیکھے ہیں جو کسی انسان نے کبھی نہیں دیکھے تھے۔
مشن کمانڈر ریڈ وائز مین کا کہنا ہے کہ اورائن خلائی جہاز کے عملے نے اس سفر میں ’ایسے مناظر دیکھے جو کسی انسان نے پہلے کبھی نہیں دیکھے‘ جبکہ پائلٹ وکٹر گلوور کا کہنا تھا کہ جو کچھ انہوں نے دیکھا اسے بیان کرنے کے لیے کوئی ’صفاتی الفاظ‘ موجود نہیں۔
چین اور انڈیا دونوں نے گذشتہ چند برسوں میں چاند کے دورافتادہ حصے کی تصاویر لینے کے لیے خلائی مشن بھیجے ہیں تو کیا انسانوں کا خود اسے دیکھنا سائنسی نقطہ نظر سے دلچسپ ہے یا صرف انسانی تحقیق کے حوالے سے؟ اس بارے میں یونیورسٹی آف آکسفرڈ میں ایسٹرو فزکس کے پروفیسر کرس لنٹوٹ کا کہنا ہے کہ ’آرٹیمس اور اس کے عملے کی جانب سے لی جانے والی تصاویر کی قدر سائنسی سے زیادہ فنکارانہ ہے۔‘
سفر کے دوران امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں موجود مشن کنٹرول سے خلابازوں کا کا رابطہ مسلسل برقرار رہا ہے اور ناسا کے اہلکاروں کے سکون بخش الفاظ خلائی جہاز کے عملے کے لیے گھر سے ایک تسلی بخش ربط جیسے تھے۔
لیکن یہ ربط اس وقت تقریباً 40 منٹ کے لیے ٹوٹ گیا جب خلا باز پاکستانی وقت کے مطابق منگل کی صبح چار بجے کے قریب چاند کے عقب سے گزرے اور خلائی جہاز اور زمین کے درمیان رابطے کی وجہ بننے والے ریڈیو اور لیزر سگنلز چاند کے درمیان میں آنے کی وجہ سے بند ہو گئے۔
40 منٹ کی خاموشی کے بعد جب یہ رابطہ دوبارہ قائم ہو تو اورائن پر موجوش مشن سپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے کہا ’زمین کی طرف سے دوبارہ (آواز) سن کر بہت خوشی ہوئی۔‘
چاند کے عقب میں 40 منٹ کی دہشت ناک خاموشی،پُراسرار مناظر جو کسی انسان نے پہلے کبھی نہ دیکھے؛ آرٹیمس II کی فاتحانہ واپسی

