اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں آپریشن غضب للحق کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 5 اپریل 2026 کو شام 5 بجے تک فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
✅Operation Ghazb lil Haq
✅Update 1700 hours 5 Apr 26✅ Summary of Fitna Al Khawarij / Afghan Taliban losses
▪️796 Killed,
▪️1043+ Injured
▪️286 Posts destroyed
▪️44 Posts captured
▪️249 tanks, armoured vehicles, artillery guns, drones destroyed
▪️81 terrorists and…— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) April 5, 2026
وزیر اطلاعات کے مطابق کارروائیوں کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 286 چوکیاں تباہ اور 44 پر قبضہ کر لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 249 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں، توپیں اور ڈرونز بھی تباہ کیے گئے۔
عطاء تارڑ کے مطابق افغانستان بھر میں دہشت گردوں اور ان کے معاون ڈھانچوں کے 81 مقامات کو فضائی کارروائیوں میں مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں افغان طالبان کی جانب سے سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا، جس میں دشمن کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا، اور 37 تک دہشت گرد ہلاک جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے۔

