اسلام آباد / کوئٹہ: سی پیک کی کامیابی اور سمندری سرحدوں کی حفاظت میں سنگ میل؛ جیونی ایئرپورٹ خطے میں تجارت اور سیاحت کے نئے دروازے کھولے گا۔حکومتِ پاکستان نے ملک کے جنوب مغربی ساحلی قصبے جیونی (Jiwani) میں ایک جدید ایئرپورٹ تعمیر کرنے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔
یہ منصوبہ نہ صرف دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے بلکہ اس سے گوادر اور گردونواح کے علاقوں میں معاشی سرگرمیوں کو بھی زبردست فروغ ملے گا۔
جیونی، جو کہ ایران کی سرحد کے قریب اور خلیج عمان کے دہانے پر واقع ہے، اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ایئرپورٹ سی پیک (CPEC) کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کو فضائی رابطہ فراہم کرے گا۔
اس سے مقامی ماہی گیروں اور تاجروں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔
جبکہ دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ ایئرپورٹ پاکستان کی سمندری حدود کی نگرانی اور ہنگامی حالات میں فوری ردعمل کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔
ابتدائی رپورٹس کے مطابق، جیونی ایئرپورٹ کو جدید ترین رن وے، ٹرمینل بلڈنگ اور جدید نیوی گیشن سسٹم سے لیس کیا جائے گا۔ اس منصوبے کا مقصد یہاں بڑے کارگو اور مسافر طیاروں کی لینڈنگ کو ممکن بنانا ہے تاکہ مستقبل میں اسے ایک بڑے تجارتی مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
اس منصوبے کے اعلان سے مقامی عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کی تعمیر کے دوران اور مکمل ہونے کے بعد ہزاروں مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور جیونی میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا، جو اپنی خوبصورت ساحلی پٹی کی وجہ سے مشہور ہے۔
وفاقی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بلوچستان کی پسماندگی دور کرنے اور اسے ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے پرعزم ہے۔ جیونی ایئرپورٹ کی تعمیر اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس سے اس دور افتادہ علاقے کا رابطہ پوری دنیا سے جڑ جائے گا۔
بلوچستان کی تقدیر بدلنے والا ایک اور بڑا قدم: جیونی میں بین الاقوامی معیار کے ایئرپورٹ تعمیر کیا جائے گا

