واشنگٹن / تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پیر تک ایک جامع معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ہے۔ فوکس نیوز کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ سفارتی کوششیں عروج پر ہیں اور ایران کے جوہری پروگرام پر ڈیڈ لاک تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران ایک حیران کن انکشاف کیا کہ جنگ بندی کے مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ایرانی مذاکرات کاروں کو ’موت سے استثنیٰ‘ (Immunity from death/targeting) دیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی اقدام کا مقصد یہ ہے کہ ایرانی وفد کسی خوف کے بغیر میز پر بیٹھ سکے اور حتمی دستاویز پر دستخط ہو سکیں۔ ٹرمپ نے یقین دلایا کہ "ایران اب کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اور اس بنیادی نکتے پر اب فریقین کے درمیان کوئی اختلاف باقی نہیں رہا۔”
منگل کا خوف: "پلانٹس اور پلوں کی تباہی کا دن”
ایک طرف جہاں صدر ٹرمپ نے پیر تک معاہدے کی نوید سنائی، وہیں اپنی مخصوص جارحانہ طبیعت کے مطابق ایران کو ایک ہولناک وارننگ بھی جاری کر دی۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ اگر پیر تک بات نہ بنی تو "منگل کا دن پاور پلانٹس اور پلوں کی تباہی کا دن ہوگا”۔
ٹرمپ نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا کہ منگل کو ایران میں وہ کچھ ہوگا جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا، جس کا اشارہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر اور بجلی گھروں کو ایک ساتھ نشانہ بنانے کی طرف تھا۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد عالمی منڈیوں میں بے یقینی کی کیفیت ہے، جبکہ خطے میں جنگ اور امن کے درمیان بال برابر فاصلہ رہ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ‘پریشر ٹیکٹکس’ (دباؤ کی حکمت عملی) اپنے عروج پر ہے، جہاں وہ ایک ہاتھ میں امن کا معاہدہ اور دوسرے میں تباہ کن فضائی حملوں کا حکم نامہ لیے کھڑے ہیں۔
اب تمام نظریں پیر کے دن پر جمی ہیں کہ آیا تہران امریکی شرائط پر سرِ تسلیم خم کرتا ہے یا منگل کا سورج ایک نئے اور ہولناک فوجی تصادم کے ساتھ طلوع ہوگا۔’
‘فیصلہ کن گھڑی’: ایران پیر تک معاہدہ کرے ، ورنہ ‘تباہ کن حملوں’ کی دھمکی،منگل پلانٹس ،پلوں کی تباہی کادن ہے، ٹرمپ

