کینبرا : آسٹریلیا نے شاہراہوں پر ڈرائیونگ کو محفوظ اور جدید بنانے کے لیے ایک انقلابی تجربہ شروع کیا ہے جس کے تحت اب سڑکوں پر لگی لائنیں رات کے اندھیرے میں خود بخود کسی بلب یا بجلی کے بغیر روشن ہو جائیں گی۔
فوٹولومینیسینٹ (Photoluminescent) ٹیکنالوجی کا جادو
اس نظام میں جدید ‘فوٹولومینیسینٹ’ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ خاص قسم کا مواد دن کے وقت سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے اور جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے، یہ ذخیرہ شدہ روشنی خارج کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ لائنیں قدرتی طور پر سورج کی روشنی سے خودکار طریقے سےچارج ہوتی ہیں۔
ایک بار چارج ہونے کے بعد یہ لائنیں رات کے کئی گھنٹوں تک سڑک کو روشن رکھتی ہیں، جس سے ڈرائیوروں کو موڑ کاٹنے اور راستہ پہچاننے میں آسانی ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر اپنایا گیا تو اس کے دور رس نتائج حاصل ہوں گے:
دور دراز کی شاہراہوں پر مہنگی اسٹریٹ لائٹس لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
خراب موسم اور شدید اندھیرے میں بصارت (Visibility) بہتر ہونے سے حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔
ان لائنوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بجلی سے چلنے والے نظام کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔
آسٹریلیا کا یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ اگر قدرت کی دی ہوئی توانائی (دھوپ) کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو ہم اپنے بنیادی ڈھانچے کو سستا اور محفوظ بنا سکتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان علاقوں کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے جہاں بجلی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان جسے ترقی پذیر جیسے ممالک میں، جہاں موٹر ویز اور ہائی ویز پر اسٹریٹ لائٹس کا خرچ اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ ایک چیلنج ہے، وہاں یہ ‘گلو ان دی ڈارک’ لائنیں ایک سستا اور پائیدار حل ثابت ہو سکتی ہیں۔

