دبئی : متحدہ عرب امارات کے تجارتی دارالحکومت دبئی میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں فضا میں تباہ کیے گئے ایک میزائل کا ملبہ عالمی شہرت یافتہ ٹیکنالوجی کمپنی ‘اوریکل’ (Oracle) کی عمارت پر جا گرا۔ دبئی میڈیا آفس کے مطابق یہ واقعہ ‘دبئی انٹرنیٹ سٹی’ میں پیش آیا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں کے برعکس، اماراتی حکام نے وضاحت کی ہے کہ یہ اوریکل کی عمارت پر کوئی براہِ راست حملہ نہیں تھا۔بلکہ اماراتی دفاعی نظام نے دشمن کے ایک فضائی ہدف کو فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا۔
تباہ شدہ میزائل کے ٹکڑے اڑتے ہوئے اوریکل کی عمارت کے سامنے والے حصے (Façade) سے ٹکرائے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ عمارت کو معمولی نقصان پہنچا ہے، نہ تو وہاں آگ لگی اور نہ ہی کوئی شخص زخمی ہوا۔
Authorities confirm that they responded to a minor incident caused by debris from an aerial interception that fell on the facade of the Oracle building in Dubai Internet City. No injuries were reported.
— Dubai Media Office (@DXBMediaOffice) April 4, 2026
رپورٹ کے مطابق اسی روز دبئی کے ایک اور معروف علاقے دبئی مرینا میں بھی فضا میں تباہ کیے گئے میزائل کا ملبہ گرنے کی اطلاع ملی۔ وہاں بھی کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے دشمن کے متعدد فضائی اہداف کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا گیا ہے۔
یادرہے اوریکل ان 18 امریکی کمپنیوں کی فہرست میں شامل ہے جن کو ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے ملک کی یونیورسٹیز پر حملوں کے جواب میں نشانہ بنانے کا عزم کیا ہے۔
امارات کے میڈیا آفس کی X پر ایک پوسٹ کے مطابق، دبئی میں حکام نے یہ بھی کہا کہ فضائی مداخلت کے بعد شہر کے مرینا کے علاقے میں ایک عمارت کے اگلے حصے پر گرنے والے ملبے سے آگ یا زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
ٹیکنالوجی لیڈرز کے لیے لمحہ فکریہ
دبئی انٹرنیٹ سٹی دنیا کی بڑی بڑی کلاؤڈ، اے آئی (AI) اور سافٹ ویئر کمپنیوں کا علاقائی ہیڈ کوارٹر ہے۔ اوریکل جیسی کمپنی کی عمارت کا متاثر ہونا عالمی ٹیکنالوجی اداروں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
اب کمپنیوں کو صرف ہیکنگ کا ہی خطرہ نہیں بلکہ جغرافیائی سیاسی تناؤ (Geopolitics) کی وجہ سے اپنی فزیکل انفراسٹرکچر کی حفاظت پر بھی توجہ دینی ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والی کمپنیوں کو اب اپنی لوکیشن اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے منصوبوں پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ کشیدگی عروج پر ہے۔ متحدہ عرب امارات مسلسل ایسے فضائی خطرات کو ناکارہ بنا رہا ہے جن کا تعلق علاقائی تنازعات سے ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا دفاعی نظام ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے اور شہر میں معمولاتِ زندگی اور توانائی کی سپلائی مکمل محفوظ ہے۔

