طورخم / پشاور:”پاکستانیوں نے ہمیں اپنوں کی طرح رکھا، یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گی”؛ ایک صدی سے زائد عمر پانے والی ضعیف خاتون کے جذبات نے سب کی آنکھیں نم کر دیں۔
پاکستان میں دہائیوں تک پناہ گزین رہنے والی ایک 129 سالہ افغان خاتون، جو شاید اس وقت دنیا کی معمر ترین خواتین میں سے ایک ہیں، اپنے آبائی وطن افغانستان روانہ ہو گئیں۔ سرحد عبور کرتے وقت ان کے چہرے پر جہاں اپنے وطن واپسی کی خوشی تھی، وہیں پاکستان چھوڑنے کا دکھ اور یہاں کے لوگوں کے لیے بے پناہ تشکر کے جذبات بھی نمایاں تھے۔
مذکورہ خاتون، جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں گزارا، رخصت ہوتے وقت کافی جذباتی نظر آئیں۔ انہوں نے میڈیا اور حکام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:
"پاکستان نے ہمیں اس وقت پناہ دی جب ہم بے گھر تھے۔ یہاں کے لوگوں نے ہمیں کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم پرائے ہیں۔ ہمیں عزت دی، روٹی دی اور سب سے بڑھ کر تحفظ دیا۔ میں اپنے ساتھ یہاں کی محبتیں لے کر جا رہی ہوں۔”
عمر کے اس آخری حصے میں جب وہ سہارے کے بغیر چل بھی نہیں سکتیں، ان کی وطن واپسی کے فیصلے کو ان کے خاندان نے ان کی دلی خواہش قرار دیا۔ طورخم سرحد پر موجود سکیورٹی حکام اور اہلکاروں نے ان کی ضعیف العمری کا احترام کرتے ہوئے انہیں خصوصی سہولیات فراہم کیں اور باوقار طریقے سے رخصت کیا۔ خاتون نے بار بار ہاتھ اٹھا کر پاکستان کی سلامتی اور یہاں کے لوگوں کی خوشحالی کے لیے دعائیں دیں۔
ان کی وطن واپسی کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین انہیں "امن کی سفیر” قرار دے رہے ہیں۔

