کوئٹہ / قلات: جہاں دنیا بھر میں حکومتیں اسمگلنگ روکنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگاتی ہیں، وہیں بلوچستان حکومت نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ‘اسمگل شدہ ایرانی پیٹرول’ کو باقاعدہ ایک ‘صوبائی پروڈکٹ’ کا درجہ دیتے ہوئے اس کی قیمت مقرر کر دی ہے۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایرانی پیٹرول اب من مانی قیمت پر نہیں بلکہ 280 روپے فی لیٹر کے ‘سستے سرکاری ریٹ’ پر فروخت ہوگا۔
ڈپٹی کمشنر قلات، منیر احمد درانی نے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے اسمگلروں اور دکانداروں کو دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ ایرانی پیٹرول صرف بلوچستان کا حق ہے، اسے سرحد پار (سندھ یا پنجاب) بھیجنے کی غلطی نہ کی جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جیسے ہی وفاقی حکومت نے پیٹرول مہنگا کیا، ایرانی پیٹرول بیچنے والوں نے بھی خود کو ‘بڑے بزنس مین’ سمجھتے ہوئے قیمتیں 300 سے 360 روپے تک پہنچا دی تھیں۔ حکومتِ بلوچستان نے اس ‘خود ساختہ مہنگائی’ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسمگل شدہ مال پر وفاقی قیمتوں کا اطلاق کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
حکام نے وارننگ دی ہے کہ جو بھی ایرانی پیٹرول 280 روپے سے ایک روپیہ بھی مہنگا بیچے گا، اس کے خلاف ‘سخت قانونی کارروائی’ کی جائے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ قانون کی گرفت ان لوگوں پر کیسے ہوگی جو کام ہی قانون کی نظریں بچا کر (اسمگلنگ) کر رہے ہیں۔

