نیویارک : امریکی اسٹاک مارکیٹ ‘وال اسٹریٹ’ اس وقت شدید مندی کی زد میں ہے، جہاں جمعہ کے روز مسلسل پانچویں ہفتے گراوٹ کا رجحان دیکھا گیا۔ یہ پچھلے چار سالوں میں وال اسٹریٹ کی بدترین اور طویل ترین مندی کی لہر ہے۔
جنگ کے سائے میں مارکیٹ کی صورتحال کچھ اس طرح رہی:
S&P 500: 0.8% کی مزید گراوٹ، جو جنگ کے آغاز کے بعد سے بدترین سطح ہے۔
Dow Jones: 402 پوائنٹس (0.9%) کی بڑی کمی۔
Nasdaq: 1% نیچے گر گیا۔
تیل کی قیمت: برینٹ کروڈ 104.15 ڈالر تک پہنچ گیا (جو جنگ سے پہلے 70 ڈالر تھا)۔
ٹرمپ کی ‘وائٹ نائز’ اور مارکیٹ کا بے اعتباری
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں کو ‘تباہ’ کرنے کی اپنی ہی دی ہوئی ڈیڈ لائن کو بڑھا کر 6 اپریل کر دیا ہے، تاکہ تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کا راستہ مل سکے۔ تاہم، سرمایہ کار اب ان بیانات کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔
ماہرِ معاشیات جم بیانکو کے مطابق”ٹرمپ کے بیانات اب مارکیٹ کے لیے صرف ‘شور’ (White Noise) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب تک ایرانی حکام مذاکرات کی کامیابی کی تصدیق نہیں کرتے، مارکیٹ مستحکم نہیں ہوگی۔”
200 ڈالر فی بیرل کا ہولناک خدشہ
میکویری (Macquarie) کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جنگ جون کے آخر تک جاری رہی تو تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جو کہ ایک عالمی ریکارڈ اور معاشی تباہی کا پیغام ہوگا۔
مہنگائی کا سونامی اور سود کی شرح
تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے ‘شرحِ سود’ میں کمی کی تمام امیدیں ختم کر دی ہیں۔ 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی شرح 4.46% تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب گھروں کے لیے مورگیج (Mortgage) اور دیگر قرضے مہنگے ہو جائیں گے، جس سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
| انڈیکس | تبدیلی | وجہ |
| ڈاؤ جونز | -402 پوائنٹس | جنگی غیر یقینی صورتحال |
| خام تیل | +3% | سپلائی میں رکاوٹ کا خوف |
| نیٹ فلکس | +0.8% | قیمتوں میں اضافے کا اعلان |
| بانڈز (10 Year) | 4.46% | مہنگائی کا بڑھتا خطرہ |

