اسلام آباد : وفاقی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے پیدا ہونے والے ایندھن اور توانائی کے بحران کے پیشِ نظر ملک بھر میں ہنگامی اقدامات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ’بچت مہم‘ کے تحت تیار کردہ ڈرافٹ میں سرکاری و نجی شعبوں کے لیے سخت ضوابط تجویز کیے گئے ہیں۔
دفاتر کے لیے ہائبرڈ ورکنگ ماڈل
ابتدائی طور پر ایک ماہ کے لیے نافذ العمل اس پالیسی کے تحت:
سرکاری دفاتر: 5 روزہ ورکنگ والے دفاتر میں 3 دن دفتر اور 2 دن آن لائن کام ہوگا۔ 6 روزہ دفاتر میں 4 دن دفتر اور 2 دن آن لائن حاضری ہوگی۔
50٪ روٹا سسٹم: دفاتر میں صرف آدھا اسٹاف موجود رہے گا تاکہ بجلی اور سفری فیول کی بچت ہو سکے۔
مانیٹرنگ: آن لائن حاضری کے لیے خصوصی سسٹم قائم کیا جائے گا، جس میں 65٪ حاضری لازمی ہوگی۔
گاڑیوں اور فیول پر کڑی پابندیاں
سرکاری گاڑیوں کے نجی یا فیملی استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔
اگر کوئی سرکاری گاڑی فیملی یا بچوں کے ساتھ سڑک پر پکڑی گئی تو 3 ماہ کا فیول ریکور اور 3 ماہ کے لیے گاڑی ضبط کی جائے گی۔
افسران کے لیے صبح 10:30 بجے سے پہلے AC کے استعمال پر پابندی ہوگی۔
تعلیمی ادارے اور پرائیویٹ سیکٹر
اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہفتے میں 3 دن کھلی رہیں گی اور 3 دن آن لائن کلاسز ہوں گی۔
نجی دفاتر کو بھی 50 فیصد ’ورک فرام ہوم‘ پالیسی اپنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بازار اور تقاریب کے اوقات
تمام بازار اور شاپنگ سینٹرز رات 9:30 بجے لازمی بند ہوں گے۔
شادی ہالز میں صرف ’ون ڈش‘ اور زیادہ سے زیادہ 200 افراد کی اجازت ہوگی، جبکہ تقریب رات 10 بجے ختم کرنا ہوگی۔
مراعات میں کٹوتی اور نئے ٹیکس
بجلی و فیول رعایت: واپڈا، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور پیٹرولیم کمپنیوں کے ملازمین کو ملنے والی مفت بجلی اور فیول میں 50 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
انٹرنیٹ: عوام کو ریلیف دینے کے لیے انٹرنیٹ اور ٹیلیفون ٹیکس میں 2.5٪ کمی کا امکان ہے۔
پراپرٹی و گاڑیاں: جائیداد اور گاڑیوں کی خرید و فروخت پر 5٪ اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
ٹول ٹیکس: تمام ٹول پلازوں پر 50 روپے کا فلیٹ اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ریلوے: نجی گاڑیوں کا استعمال کم کرنے کے لیے ریلوے ٹکٹوں پر 15٪ رعایت دی جائے گی۔
مشرقِ وسطیٰ جنگ : ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ لگانے کی تیاریاں، مفت بجلی کے یونٹ آدھے ، سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال پر پابندی کی تجاویز

