Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی: مائیکروسافٹ نے تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی اپ ڈیٹ جاری کر دی،

      بھارت کی ہٹ دھرمی : عالمی عدالت کے فیصلے کے باوجودمتنازع منصوبے ساولکوٹ ڈیم کے ٹینڈر جاری

      چیٹ جی پی ٹی کے نئے امیجز فیچر نے تہلکہ مچا دیا

      آئی فون 18 پرو، پہلے فولڈ ایبل آئی فون اور نئی واچز کی رونمائی کب کہاں ہوگی؟

      اے آئی کی دوڑ، میٹا نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹ متعارف کرادیا، پے منٹس سمیت ہر دفتری کام کرے گا

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    Lady Behind the Transformation of Public Health Practice

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان میں صحتِ عامہ کا شعبہ طویل عرصے تک ایک بنیادی مگر نسبتاً نظرانداز کیا جانے والا میدان رہا ہے۔ ملکی صحت کے نظام میں زیادہ تر توجہ بیماریوں کے علاج پر مرکوز رہی، جبکہ بیماریوں کی روک تھام، وبائی امراض کی نگرانی، صحت کے نظام کی مؤثر منصوبہ بندی اور پبلک ہیلتھ لیڈرشپ جیسے اہم پہلو اکثر پس منظر میں چلے گئے۔ حالانکہ جدید دنیا میں صحتِ عامہ کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور سماجی ترقی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل نے ادارۂ صحتِ عامہ لاہور کی قیادت سنبھالی تو ادارے کے کردار اور سمت کو نئے انداز میں متعین کرنے کی کوشش نمایاں طور پر سامنے آئی۔

    ادارۂ صحتِ عامہ لاہور پاکستان کے اُن اہم اداروں میں شمار ہوتا ہے جو کئی دہائیوں سے پبلک ہیلتھ کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور سرکاری افسران کی تربیت کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں اس ادارے نے بیماریوں کی نگرانی، وبائی امراض کی تحقیق، ماحولیاتی صحت اور صحت کے انتظامی امور میں اہم خدمات انجام دیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ صحت کے مسائل کی نوعیت میں بھی تبدیلی آئی اور ان مسائل کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں اس ادارے کے کردار کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔
    ڈاکٹر سائرہ افضل کی قیادت میں اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے میں تحقیق، تربیت اور پالیسی سے متعلق سرگرمیوں کو نئی توانائی دینے کی کوشش کی گئی۔ وہ خود بھی ایک فعال محقق ہیں اور ان کے متعدد تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہی علمی اور تحقیقی پس منظر ادارے میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوا۔ ادارے میں جن موضوعات پر تحقیق کو خاص اہمیت دی گئی ان میں ڈینگی اور دیگر وبائی امراض، ماحولیاتی صحت، ماں اور بچے کی صحت اور ویکسینیشن پروگرامز شامل ہیں۔ اس نوعیت کی تحقیق صرف تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ اس کا مقصد صحت کے شعبے میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو ممکن بنانا بھی ہے۔
    اسی تناظر میں ایک اہم تصور ایگزیکٹو کالج فار پبلک ہیلتھ پریکٹیشنرز کا بھی سامنے آیا۔ اس ماڈل کا مقصد سرکاری صحت افسران اور ڈاکٹرز کو مختصر مدت کے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام فراہم کرنا ہے تاکہ وہ انتظامی ذمہ داریوں اور پبلک ہیلتھ لیڈرشپ کے تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ اس پروگرام کے تحت پبلک ہیلتھ لیڈرشپ، ہیلتھ پروگرام مینجمنٹ، آؤٹ بریک رسپانس اور ایپیڈیمیالوجی جیسے موضوعات پر تربیت فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔ دنیا کے معروف اداروں میں بھی اسی نوعیت کے ایگزیکٹو پروگرامز چلائے جاتے ہیں جن کا مقصد کام کرنے والے پیشہ ور افراد کو مختصر مدت میں جدید مہارتیں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ ماڈل مکمل طور پر ادارہ جاتی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ادارۂ صحتِ عامہ لاہور پاکستان میں پبلک ہیلتھ لیڈرشپ کی تربیت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔
    ادارے میں انتظامی سطح پر بھی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ مختلف شعبوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ، تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ اور تربیتی پروگراموں کی نگرانی جیسے اقدامات کے ذریعے ادارے کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی۔ بظاہر یہ اقدامات سادہ محسوس ہوتے ہیں مگر کسی بھی تعلیمی اور تربیتی ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں یہی انتظامی تسلسل بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ روابط کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ تحقیق اور تربیت کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ مختلف عالمی اداروں خصوصاً یونیسیف اور دیگر پبلک ہیلتھ ٹریننگ اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کیے گئے۔ اس نوعیت کے روابط ادارے کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، بین الاقوامی تربیت اور فنڈنگ کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، جو کسی بھی تعلیمی ادارے کی ترقی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
    ادارے کی سرگرمیوں میں عوامی صحت کے مسائل پر آگاہی کو بھی اہمیت دی گئی۔ خاص طور پر HPV ویکسینیشن، ماحولیاتی آلودگی اور سموگ جیسے مسائل پر توجہ دی گئی تاکہ صحت کے بارے میں معاشرے میں شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ اس طرح ادارہ نہ صرف ایک تعلیمی مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے بلکہ عوامی صحت کے مسائل پر رہنمائی فراہم کرنے والا علمی پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے۔
    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے صحت کے نظام کا سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ پالیسی سازی اور انتظامی صلاحیت کی محدودیت بھی ہے۔ ایسے میں پبلک ہیلتھ اداروں کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اگر ادارۂ صحتِ عامہ لاہور میں جاری اصلاحات اور تربیتی پروگرام تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو یہ ادارہ مستقبل میں صحت کے افسران کی تربیت، پبلک ہیلتھ تحقیق اور وبائی امراض کی نگرانی جیسے اہم شعبوں میں قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ ادارۂ صحتِ عامہ لاہور اس وقت ایک ایسے ارتقائی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے ایک روایتی تربیتی ادارے سے آگے بڑھا کر ایک فعال پبلک ہیلتھ تھنک ٹینک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے اور ادارے کو پالیسی اور وسائل کی مناسب حمایت حاصل رہتی ہے تو آنے والے برسوں میں یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں صحتِ عامہ کی پالیسی سازی، تحقیق اور قیادت کی تیاری کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، اور اس تبدیلی کی کوششوں میں ڈاکٹر سائرہ افضل کی قیادت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    Related Posts

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے راہزن ہلاک

    مقبول خبریں

    ٹیم انڈیا کے چار زخمی کھلاڑیوں میں سے تین فٹ، ایک کھلاڑی اسکواڈ سے باہر

    کرینہ کپور کا بالی ووڈ پر بڑا بیان، اینمل کی مثال دے کر فلم انڈسٹری کو کیا کہا

    غزہ ، اسرائیلی فضائی حملہ، بچوں سمیت 4 افراد ہلاک

    بہت گرم چائے اور کافی سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، آکسفورڈ یونیورسٹی کی اہم تحقیق

    قبل از گرفتاری ضمانت   خارج گیپکو سب ڈویژن ہیڈ مرالہ کے ایگزیکٹو ایکسیئن گرفتار

    بلاگ

    ملک غلام حسن سلہال — خدمت، شرافت اور عوامی وابستگی کی روشن مثال

    تین سالہ معطلی یا انصاف کا انتظار؟ — جب احتساب، خود ایک سزا بن جائے.

    ”ہنی ٹریپ کرتی انٹی کرپشن کا احتساب کب ہوگا ؟ “ ملک محمد سلمان کا کالم

    لاہور پریس کلب میں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو — خواتین صحافیوں کی یادگار محفلِ میلاد

    ناہید طالب: فن، صلاحیت اور خدمت کا روشن استعارہ

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.