Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      کیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹ کلاس رومز میں انسانی استاد کی جگہ لے سکتے ہیں؟نیویارک کے ہائی سکول میں پہلی ”ہیومینائڈ“ ٹیچر تعینات

      ایچ 1 بی ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس کا معاملہ: ٹرمپ حکومت عدالت میں ناکام، فیصلہ برقرار

       دماغ سےروبوٹ چلانے والی نئی ٹیکنالوجی متعارف

      سام سنگ کے نئی فولڈ ایبل فونز، سمارٹ واچز اور گلاسز: فیچرز اور قیمتیں کیا ہیں؟

      لاہور اور فیصل آباد سے بڑی شروعات؛ کیا آپ کی گاڑی بھی 20 سال پرانی ہے؟

    • بلاگ
    • ویڈیوز

      اصفہان میں دھماکوں کے بعد فضا دھوئیں سے بھر گئی: اسرائیلی فضائی حملے کی پہلی ویڈیو 

      محبت کے آگے وحشی جانور بھی بے بس۔۔۔

      150 ارب ڈالر کی سلطنت کا مالک، مگر سواری عام سی میٹرو!

      امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وطن روانہ

      امریکی پائلٹ کیلئے امریکا کا ریسکیو مشن کیسے سرانجام پایا؟ اینی میٹڈ ویڈیو دیکھئیے

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    Lady Behind the Transformation of Public Health Practice

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان میں صحتِ عامہ کا شعبہ طویل عرصے تک ایک بنیادی مگر نسبتاً نظرانداز کیا جانے والا میدان رہا ہے۔ ملکی صحت کے نظام میں زیادہ تر توجہ بیماریوں کے علاج پر مرکوز رہی، جبکہ بیماریوں کی روک تھام، وبائی امراض کی نگرانی، صحت کے نظام کی مؤثر منصوبہ بندی اور پبلک ہیلتھ لیڈرشپ جیسے اہم پہلو اکثر پس منظر میں چلے گئے۔ حالانکہ جدید دنیا میں صحتِ عامہ کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور سماجی ترقی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل نے ادارۂ صحتِ عامہ لاہور کی قیادت سنبھالی تو ادارے کے کردار اور سمت کو نئے انداز میں متعین کرنے کی کوشش نمایاں طور پر سامنے آئی۔

    ادارۂ صحتِ عامہ لاہور پاکستان کے اُن اہم اداروں میں شمار ہوتا ہے جو کئی دہائیوں سے پبلک ہیلتھ کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور سرکاری افسران کی تربیت کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں اس ادارے نے بیماریوں کی نگرانی، وبائی امراض کی تحقیق، ماحولیاتی صحت اور صحت کے انتظامی امور میں اہم خدمات انجام دیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ صحت کے مسائل کی نوعیت میں بھی تبدیلی آئی اور ان مسائل کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں اس ادارے کے کردار کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔
    ڈاکٹر سائرہ افضل کی قیادت میں اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے میں تحقیق، تربیت اور پالیسی سے متعلق سرگرمیوں کو نئی توانائی دینے کی کوشش کی گئی۔ وہ خود بھی ایک فعال محقق ہیں اور ان کے متعدد تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہی علمی اور تحقیقی پس منظر ادارے میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوا۔ ادارے میں جن موضوعات پر تحقیق کو خاص اہمیت دی گئی ان میں ڈینگی اور دیگر وبائی امراض، ماحولیاتی صحت، ماں اور بچے کی صحت اور ویکسینیشن پروگرامز شامل ہیں۔ اس نوعیت کی تحقیق صرف تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ اس کا مقصد صحت کے شعبے میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو ممکن بنانا بھی ہے۔
    اسی تناظر میں ایک اہم تصور ایگزیکٹو کالج فار پبلک ہیلتھ پریکٹیشنرز کا بھی سامنے آیا۔ اس ماڈل کا مقصد سرکاری صحت افسران اور ڈاکٹرز کو مختصر مدت کے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام فراہم کرنا ہے تاکہ وہ انتظامی ذمہ داریوں اور پبلک ہیلتھ لیڈرشپ کے تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ اس پروگرام کے تحت پبلک ہیلتھ لیڈرشپ، ہیلتھ پروگرام مینجمنٹ، آؤٹ بریک رسپانس اور ایپیڈیمیالوجی جیسے موضوعات پر تربیت فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔ دنیا کے معروف اداروں میں بھی اسی نوعیت کے ایگزیکٹو پروگرامز چلائے جاتے ہیں جن کا مقصد کام کرنے والے پیشہ ور افراد کو مختصر مدت میں جدید مہارتیں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ ماڈل مکمل طور پر ادارہ جاتی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ادارۂ صحتِ عامہ لاہور پاکستان میں پبلک ہیلتھ لیڈرشپ کی تربیت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔
    ادارے میں انتظامی سطح پر بھی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ مختلف شعبوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ، تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ اور تربیتی پروگراموں کی نگرانی جیسے اقدامات کے ذریعے ادارے کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی۔ بظاہر یہ اقدامات سادہ محسوس ہوتے ہیں مگر کسی بھی تعلیمی اور تربیتی ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں یہی انتظامی تسلسل بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ روابط کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ تحقیق اور تربیت کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ مختلف عالمی اداروں خصوصاً یونیسیف اور دیگر پبلک ہیلتھ ٹریننگ اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کیے گئے۔ اس نوعیت کے روابط ادارے کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، بین الاقوامی تربیت اور فنڈنگ کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، جو کسی بھی تعلیمی ادارے کی ترقی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
    ادارے کی سرگرمیوں میں عوامی صحت کے مسائل پر آگاہی کو بھی اہمیت دی گئی۔ خاص طور پر HPV ویکسینیشن، ماحولیاتی آلودگی اور سموگ جیسے مسائل پر توجہ دی گئی تاکہ صحت کے بارے میں معاشرے میں شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ اس طرح ادارہ نہ صرف ایک تعلیمی مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے بلکہ عوامی صحت کے مسائل پر رہنمائی فراہم کرنے والا علمی پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے۔
    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے صحت کے نظام کا سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ پالیسی سازی اور انتظامی صلاحیت کی محدودیت بھی ہے۔ ایسے میں پبلک ہیلتھ اداروں کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اگر ادارۂ صحتِ عامہ لاہور میں جاری اصلاحات اور تربیتی پروگرام تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو یہ ادارہ مستقبل میں صحت کے افسران کی تربیت، پبلک ہیلتھ تحقیق اور وبائی امراض کی نگرانی جیسے اہم شعبوں میں قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ ادارۂ صحتِ عامہ لاہور اس وقت ایک ایسے ارتقائی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے ایک روایتی تربیتی ادارے سے آگے بڑھا کر ایک فعال پبلک ہیلتھ تھنک ٹینک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے اور ادارے کو پالیسی اور وسائل کی مناسب حمایت حاصل رہتی ہے تو آنے والے برسوں میں یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں صحتِ عامہ کی پالیسی سازی، تحقیق اور قیادت کی تیاری کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، اور اس تبدیلی کی کوششوں میں ڈاکٹر سائرہ افضل کی قیادت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    Related Posts

    سوئس پاکستانی سعدیہ زاہدی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر

    صحافی سجاد شر چار روز سے لاپتا،اہلخانہ شدید پریشان

    بند نالہ شہریوں کے لیے دردِ سر بن گیا،  مکینوں کو مشکلات کا سامنا

    مقبول خبریں

    عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت: صدر ٹرمپ نے جان بوجھ کر بمباری روکی، کیا دونوں ملک بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر پائیں گے؟

    تیسری جنگ عظیم ٖ! امریکا ایران جنگ میں یوکرین بھی کود پڑا،بحیرہ کیسپئین میں ایرانی جہاز پر حملہ

    سوئس پاکستانی سعدیہ زاہدی انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (IATA) کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر

    کیا مصنوعی ذہانت اور روبوٹ کلاس رومز میں انسانی استاد کی جگہ لے سکتے ہیں؟نیویارک کے ہائی سکول میں پہلی ”ہیومینائڈ“ ٹیچر تعینات

    دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ نوجوانوں کی جیت ہے، ہندوستان کے جین-زی کی جیت ہے: کانگریس

    بلاگ

    ”وہ باپ جو اپنے بچوں سے نہیں، مہنگائی سے ہار گیا“

    سرائے سدھو میں منشیات فروشوں کا راج

    شدید بارشیں ،سیلاب کا امکان اوراحتیاطی تدابیر

      پولٹری فارمنگ کے ذریعے دیہی خواتین کو بااختیار بنانا

    اور:-شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.