Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    Facebook Twitter Instagram
    Benaqab News | Welcome to Benaqab News NetworkBenaqab News | Welcome to Benaqab News Network
    • ہوم
    • اہم ترین
    • پاکستان
    • شہر شہر کی خبریں
    • دنیا کی خبریں
    • صحت
    • انٹرٹینمنٹ
    • کھیل
    • بزنس
    • ٹیکنالوجی

      ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

      واٹس ایپ صارفین کیلئے جادو کا چراغ بن گیا، بڑی سہولت متعارف

      چینی اے آئی کمپنی ڈیپ سیک نے سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے نیا "سپر ایجنٹ” متعارف کرا دیا

      ریڈ جائنٹ ستاروں کی ہولناک تباہی سے بچ جانے والے تین انوکھے سیارے دریافت

      روبوٹ کتوں کو سیر کروائیں، ہزاروں کمائیں: مستقبل کی انوکھی نوکری

    • بلاگ
    • ویڈیوز

        بھٹ شاہ رورل ہیلتھ سینٹر کی  غفلت سے خاتون اور نومولود جاں بحق

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں ضلع بھر میں مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری

      ہیومین ویلفیئر آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ریلی نکالی گئی

      عالمگیر ویلفیئر ٹرسٹ اور جامع مدرسہ منصورہ ہالا کے مشترکہ تعاون سے مفت میڈیکل کیمپ کا انعقاد

      جشنِ آزادی کے سلسلے میں مغل ویلفیئر اتحاد ہالا کی جانب سے ریلی نکالی گئی

    Benaqab News | Welcome to Benaqab News Network

    Lady Behind the Transformation of Public Health Practice

    Facebook Twitter LinkedIn WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    تحریر:اسد مرزا
    جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے

    پاکستان میں صحتِ عامہ کا شعبہ طویل عرصے تک ایک بنیادی مگر نسبتاً نظرانداز کیا جانے والا میدان رہا ہے۔ ملکی صحت کے نظام میں زیادہ تر توجہ بیماریوں کے علاج پر مرکوز رہی، جبکہ بیماریوں کی روک تھام، وبائی امراض کی نگرانی، صحت کے نظام کی مؤثر منصوبہ بندی اور پبلک ہیلتھ لیڈرشپ جیسے اہم پہلو اکثر پس منظر میں چلے گئے۔ حالانکہ جدید دنیا میں صحتِ عامہ کو صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور سماجی ترقی سے بھی جوڑا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب پروفیسر ڈاکٹر سائرہ افضل نے ادارۂ صحتِ عامہ لاہور کی قیادت سنبھالی تو ادارے کے کردار اور سمت کو نئے انداز میں متعین کرنے کی کوشش نمایاں طور پر سامنے آئی۔

    ادارۂ صحتِ عامہ لاہور پاکستان کے اُن اہم اداروں میں شمار ہوتا ہے جو کئی دہائیوں سے پبلک ہیلتھ کے شعبے میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور سرکاری افسران کی تربیت کرتے رہے ہیں۔ ماضی میں اس ادارے نے بیماریوں کی نگرانی، وبائی امراض کی تحقیق، ماحولیاتی صحت اور صحت کے انتظامی امور میں اہم خدمات انجام دیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ صحت کے مسائل کی نوعیت میں بھی تبدیلی آئی اور ان مسائل کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں اس ادارے کے کردار کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت محسوس کی جانے لگی۔
    ڈاکٹر سائرہ افضل کی قیادت میں اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ادارے میں تحقیق، تربیت اور پالیسی سے متعلق سرگرمیوں کو نئی توانائی دینے کی کوشش کی گئی۔ وہ خود بھی ایک فعال محقق ہیں اور ان کے متعدد تحقیقی مقالے بین الاقوامی جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ یہی علمی اور تحقیقی پس منظر ادارے میں ریسرچ کلچر کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوا۔ ادارے میں جن موضوعات پر تحقیق کو خاص اہمیت دی گئی ان میں ڈینگی اور دیگر وبائی امراض، ماحولیاتی صحت، ماں اور بچے کی صحت اور ویکسینیشن پروگرامز شامل ہیں۔ اس نوعیت کی تحقیق صرف تعلیمی سرگرمی نہیں بلکہ اس کا مقصد صحت کے شعبے میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو ممکن بنانا بھی ہے۔
    اسی تناظر میں ایک اہم تصور ایگزیکٹو کالج فار پبلک ہیلتھ پریکٹیشنرز کا بھی سامنے آیا۔ اس ماڈل کا مقصد سرکاری صحت افسران اور ڈاکٹرز کو مختصر مدت کے پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام فراہم کرنا ہے تاکہ وہ انتظامی ذمہ داریوں اور پبلک ہیلتھ لیڈرشپ کے تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ اس پروگرام کے تحت پبلک ہیلتھ لیڈرشپ، ہیلتھ پروگرام مینجمنٹ، آؤٹ بریک رسپانس اور ایپیڈیمیالوجی جیسے موضوعات پر تربیت فراہم کرنے کا تصور پیش کیا گیا۔ دنیا کے معروف اداروں میں بھی اسی نوعیت کے ایگزیکٹو پروگرامز چلائے جاتے ہیں جن کا مقصد کام کرنے والے پیشہ ور افراد کو مختصر مدت میں جدید مہارتیں فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اگر یہ ماڈل مکمل طور پر ادارہ جاتی شکل اختیار کر لیتا ہے تو ادارۂ صحتِ عامہ لاہور پاکستان میں پبلک ہیلتھ لیڈرشپ کی تربیت کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔
    ادارے میں انتظامی سطح پر بھی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی۔ مختلف شعبوں کے ساتھ باقاعدہ رابطہ، تعلیمی سرگرمیوں کا جائزہ اور تربیتی پروگراموں کی نگرانی جیسے اقدامات کے ذریعے ادارے کی کارکردگی کو مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی۔ بظاہر یہ اقدامات سادہ محسوس ہوتے ہیں مگر کسی بھی تعلیمی اور تربیتی ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں یہی انتظامی تسلسل بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
    اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ روابط کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی گئی تاکہ تحقیق اور تربیت کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ مختلف عالمی اداروں خصوصاً یونیسیف اور دیگر پبلک ہیلتھ ٹریننگ اداروں کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کیے گئے۔ اس نوعیت کے روابط ادارے کے لیے مشترکہ تحقیقی منصوبوں، بین الاقوامی تربیت اور فنڈنگ کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، جو کسی بھی تعلیمی ادارے کی ترقی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
    ادارے کی سرگرمیوں میں عوامی صحت کے مسائل پر آگاہی کو بھی اہمیت دی گئی۔ خاص طور پر HPV ویکسینیشن، ماحولیاتی آلودگی اور سموگ جیسے مسائل پر توجہ دی گئی تاکہ صحت کے بارے میں معاشرے میں شعور کو فروغ دیا جا سکے۔ اس طرح ادارہ نہ صرف ایک تعلیمی مرکز کے طور پر کام کر سکتا ہے بلکہ عوامی صحت کے مسائل پر رہنمائی فراہم کرنے والا علمی پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے۔
    اگر وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کے صحت کے نظام کا سب سے بڑا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں بلکہ پالیسی سازی اور انتظامی صلاحیت کی محدودیت بھی ہے۔ ایسے میں پبلک ہیلتھ اداروں کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ اگر ادارۂ صحتِ عامہ لاہور میں جاری اصلاحات اور تربیتی پروگرام تسلسل کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو یہ ادارہ مستقبل میں صحت کے افسران کی تربیت، پبلک ہیلتھ تحقیق اور وبائی امراض کی نگرانی جیسے اہم شعبوں میں قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔
    یوں کہا جا سکتا ہے کہ ادارۂ صحتِ عامہ لاہور اس وقت ایک ایسے ارتقائی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے ایک روایتی تربیتی ادارے سے آگے بڑھا کر ایک فعال پبلک ہیلتھ تھنک ٹینک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اگر یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے اور ادارے کو پالیسی اور وسائل کی مناسب حمایت حاصل رہتی ہے تو آنے والے برسوں میں یہ ادارہ نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان میں صحتِ عامہ کی پالیسی سازی، تحقیق اور قیادت کی تیاری کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے، اور اس تبدیلی کی کوششوں میں ڈاکٹر سائرہ افضل کی قیادت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

    Related Posts

    پاک افغان سرحدپر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی تشکیل کی دراندازی کی کوشش ناکام

    پاکپتن میں ہولناک ٹریفک حادثہ، بس ٹریلر سے ٹکرا گئی، 15جاں بحق 33زخمی

    فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا

    مقبول خبریں

    پاک افغان سرحدپر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی تشکیل کی دراندازی کی کوشش ناکام

    پاکپتن میں ہولناک ٹریفک حادثہ، بس ٹریلر سے ٹکرا گئی، 15جاں بحق 33زخمی

    مڈ ٹرمز میں شکست کے بعد وائٹ ہاؤس میں اقتدار کی جنگ: جے ڈی وینس اور مارکو روبیو نے پیٹ ہیگسیٹھ کے خلاف محاذ کھول دیا

    فیلڈ مارشل کا ایس ایس جی ہیڈکوارٹرز کا دورہ ، جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا

    ناسا کی 22 سالہ خلائی دوربین کا زمین کی فضا میں داخل ہونے پرکیا بنا

    بلاگ

    ’’پولیس کی دنیا کے تین دلچسپ منظرنامے، انسانی ہمدردی، جھپیاں پپیاں اور اہم عہدے کی جنگ’’

    پیلو وینس کا جسرا خاندان؛ علم و طب کے میدان میں 27 ڈاکٹرز کی روشن مثال

    ’’عمران خان کی نئی ڈائریکشن’’ میاں حبیب کاکالم

    محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی؛ ایک مزدور کے بیٹے نے ڈاکٹر بن کر تاریخ رقم کر دی

    پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

    Facebook Twitter Instagram Pinterest
    • Disclaimer
    • Terms & Conditions
    • Contact Us
    • privacy policy
    Copyright © 2024 All Rights Reserved Benaqab Tv Network

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.