لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت امن و امان کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ریاست کی رٹ کو چپے چپے پر قائم کرنے کے لیے انقلابی فیصلوں کی منظوری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ جدید جنگ (Warfare) کے طور طریقے بدل چکے ہیں، اس لیے ہمیں روایتی طریقوں سے نکل کر خود کو تیار کرنا ہوگا۔
وزیر اعلیٰ نے "ڈیجیٹل دہشت گردوں” اور سائبر مجرموں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے پنجاب سائبر کرائم انویسٹی گیشن یونٹ بنانے کی منظوری دے دی ہے۔
سائبر ہراسانی کا شکار خواتین اور بچیوں کے لیے خصوصی سیل قائم کیا جائے گا۔ہر ضلع میں ‘ڈسٹرکٹ آن لائن کرائم سینٹر’ قائم کیے جائیں گے۔
امن و امان کی مستقل بحالی کے لیے پنجاب میں بائیک سمیت تمام گاڑیوں پر ای ٹیگ (E-Tag) لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سات روز کے اندر صوبے کے لیے مائیکرو سیکیورٹی کا ‘آہنی حصار’ پلان طلب کر لیا ہے تاکہ دہشت گردوں کے لیے کوئی ‘سیف روٹ’ باقی نہ رہے۔
ڈرون ڈیفنس: غیر قانونی ڈرونز پر پابندی کے ساتھ ساتھ جدید ترین ‘ڈرون ڈیفنس سسٹم’ خریدنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
صوبائی داخلی پوائنٹس پر سرچ لائٹس، ڈرون سرویلنس اور روف ٹاپ سیکیورٹی مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے گا۔
ہجوم سے نمٹنے کے لیے اینٹی رائٹس فورس (RMP) کو جدید ترین آلات اور خصوصی تربیت فراہم کی جائے گی۔
علماء کا کردار اور یومِ علیؓ کی سیکیورٹی
مریم نواز شریف نے امن و امان کی بحالی میں علماء کرام کے تعاون کو سراہا اور یومِ علیؓ کے موقع پر ان کی مشاورت سے سیکیورٹی ایس او پیز (SOPs) تشکیل دینے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعلیٰ نے حالیہ دنوں میں سیکیورٹی صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالنے پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق اور لاہور پولیس کو شاباش بھی دی۔
وزیر اعلیٰ نے اختتامی کلمات میں کہا کہ "چیک پوسٹ سے خودکش حملہ آور کا داخل ہونا تشویشناک ہے، اب ہم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے، سب کو ہوشیار رہنا ہوگا

