راولپنڈی: گزشتہ چند روز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خاتمے کے لیے جاری انسداد دہشت گردی مہم کے تحت تیز رفتار اور خفیہ اطلاعات پر مبنی متعدد کامیاب کارروائیاں کیں ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 24 فروری کو خیبر پختونخوا میں چار مختلف جھڑپوں کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 26 خوارج ہلاک کیے گئے، جبکہ بلوچستان کے علاقے سمبازہ میں ایک کارروائی کے دوران بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان سے وابستہ 8 خوارج مارے گئے ہیں۔
شمالی وزیرستان کے ضلع میں حسن خیل کے عمومی علاقے کے بالمقابل پاک افغان سرحد سے دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے ایک گروہ کی نقل و حرکت سیکیورٹی فورسز نے بروقت بھانپ لی۔ سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ایک خوارجی کو جہنم واصل کر دیا۔ ہلاک ہونے والے خوارجی کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے۔
ایک اور کارروائی لکی مروت میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد تین خوارج کو ہلاک کر دیا گیا۔
اسی دوران بنوں کے علاقے نرمی خیل میں دو مختلف جھڑپوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے 10 خوارج کو ہلاک کیا، جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خفیہ اطلاعات پر مبنی کارروائی میں مزید 12 خوارج کو انجام تک پہنچایا گیا۔
پانچویں کارروائی میں ضلع ژوب کے علاقے سمبازہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 8 دہشت گرد مارے گئے۔
کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ یہ عناصر علاقے میں متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہے تھے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملکی سرحدوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ علاقے میں کلیئرنس اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہیں تاکہ کسی بھی دیگر انڈین اسپانسرڈ خوارجی کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن عزم استحکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
سیکیورٹی فورسز کی متعدد کامیاب کارروائیوں میں 34 دہشت گرد واصل جہنم

